Recitation (Mishary Rashid Alafasy)
Arabic
وَإِذَا سَمِعُواْ ٱللَّغۡوَ أَعۡرَضُواْ عَنۡهُ وَقَالُواْ لَنَآ أَعۡمَٰلُنَا وَلَكُمۡ أَعۡمَٰلُكُمۡ سَلَٰمٌ عَلَيۡكُمۡ لَا نَبۡتَغِي ٱلۡجَٰهِلِينَ
Urdu (Syed Abul A’la Maududi)
اور جب انہوں نے بیہودہ بات سنی تو یہ کہہ کر اس سے کنارہ کش ہو گئے کہ “ہمارے اعمال ہمارے لیے اور تمہارے اعمال تمہارے لیے، تم کو سلام ہے، ہم جاہلوں کا سا طریقہ اختیار نہیں کرنا چاہتے
English (Sahih International)
And when they hear ill speech, they turn away from it and say, “For us are our deeds, and for you are your deeds. Peace will be upon you; we seek not the ignorant
Tafsir — Bayan ul Quran (Dr. Israr Ahmad)
سَلٰمٌ عَلَیْکُمْز لَا نَبْتَغِی الْجٰہِلِیْنَ ”یہاں اس مکالمے کی طرف اشارہ ہے جو حبشہ کے وفد کے ارکان کا مشرکین مکہ کے ساتھ ہوا تھا۔ یہ وفد حضور ﷺ سے ملاقات کے لیے مکہ آیا تھا۔ واقعہ دراصل یوں تھا کہ مکہ سے حبشہ کی طرف پہلی ہجرت کرنے والے صحابہ رض کی تبلیغ سے حبشہ میں کچھ عیسائیوں نے اسلام قبول کرلیا۔ جیسے بعد میں دوسری ہجرت کے مہاجرین ‘ صحابہ کی تبلیغ سے شاہ حبشہ نجاشی بھی ایمان لے آئے تھے ‘ جو اپنی زندگی میں حضور ﷺ کی زیارت کر کے صحابیت کا درجہ تو نہ پا سکے ‘ البتہ صحابہ رض سے ملاقات کی بنا پر وہ تابعی ضرو رہیں۔ حضرت نجاشی کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ حضور ﷺ نے ان کی غائبانہ نماز جنازہ پڑھائی اور یہ واحد غائبانہ نماز جنازہ ہے جو حضور ﷺ سے پڑھانا ثابت ہے۔ حبشہ میں جن لوگوں نے صحابہ رض کی کوششوں سے ایمان قبول کیا تھا بعد میں ان میں سے کچھ لوگ حضور ﷺ سے ملاقات کے ارمان میں ایک وفد کی صورت میں مکہ آئے اور حضور ﷺ کی زیارت کی سعادت حاصل کی۔ جب مشرکین مکہّ کو ان لوگوں کی آمد کا علم ہوا تو انہوں نے ان لوگوں سے بہت بےہودہ باتیں کیں ‘ انہیں طعنے دیے اور ان کا خوب تمسخر اڑایا کہ تم لوگ بہت احمق ہو جو اپنی الہامی کتاب کو چھوڑ کر اس نئے دین میں شامل ہوگئے ہو۔ آیت زیر مطالعہ میں اس وفد کے لوگوں کا جواب نقل ہوا ہے جو انہوں نے مشرکین مکہ کو دیا تھا کہ ہمارا آپ لوگوں سے کچھ سروکار نہیں ‘ ہم اپنے اعمال کے ذمہ دار ہیں اور تم لوگ اپنے اعمال کے۔ ہم اللہ کے فضل سے پہلے بھی حق پر تھے اور اب ہمیں اس حق پر بھی ایمان لانے کی سعادت ملی ہے جو قرآن کی صورت میں ہمارے رب کی طرف سے آیا ہے۔
Tafsir — Tazkirul Quran (Maulana Wahiduddin Khan)
The commentary on this ayah is given with ayah 28:52.