Recitation (Mishary Rashid Alafasy)
Arabic
قَالَ رَبِّ إِنِّي قَتَلۡتُ مِنۡهُمۡ نَفۡسٗا فَأَخَافُ أَن يَقۡتُلُونِ
Urdu (Syed Abul A’la Maududi)
موسیٰؑ نے عرض کیا “میرے آقا، میں تو ان کا ایک آدمی قتل کر چکا ہوں، ڈرتا ہوں کہ وہ مجھے مار ڈالیں گے
English (Sahih International)
He said, “My Lord, indeed, I killed from among them someone, and I fear they will kill me
Tafsir — Bayan ul Quran (Dr. Israr Ahmad)
This commentary covers ayaat 33 and 34.
آیت 33 قَالَ رَبِّ اِنِّیْ قَتَلْتُ مِنْہُمْ نَفْسًا فَاَخَافُ اَنْ یَّقْتُلُوْنِ ”اگر میں مصر پہنچ کر خاموشی سے کسی جگہ آباد ہوجاؤں تو شاید محفوظ رہ سکوں ‘ لیکن اگر میں سیدھا فرعون کے دربار میں چلا گیا تو اندیشہ ہے کہ فوری طور پر میرے خلاف مقدمہ چلایا جائے گا اور مجھے قتل کردیا جائے گا۔
Tafsir — Tazkirul Quran (Maulana Wahiduddin Khan)
This commentary covers ayaat 33 to 35.
خدا جب کسی کو اپنی دعوت کے کام پر مامور کرتا ہے تو لازمی طورپر اس کو وہ تمام اسباب بھی دیتاہے جو کارِ دعوت کی مؤثر ادائیگی کے ليے ضروری ہیں۔ چنانچہ حضرت موسیٰ کو ان کے حالات کے لحاظ سے متعدد چیزیں دی گئیں۔ آپ کو ماموریت کی سند کے طورپر خارقِ عادت معجزے عطا کيے گئے۔ آپ کو مدد گار دیا گیا جو اعلان حق کے کام میں آپ کا معاون ہو۔ آپ کو شخصی ہیبت دی گئی تاکہ فرعون کی قوم آپ پر ہاتھ ڈالنے کی جرأت نہ کرے۔ خداکی طرف سے یہ مقدر کردیا گیا کہ حضرت موسیٰ اور آپ کے ساتھیوں (بنی اسرائیل) ہی کو آخری غلبہ حاصل ہو۔