Recitation (Mishary Rashid Alafasy)

Next 28:19 Prev 28:17


Arabic

فَأَصۡبَحَ فِي ٱلۡمَدِينَةِ خَآئِفٗا يَتَرَقَّبُ فَإِذَا ٱلَّذِي ٱسۡتَنصَرَهُۥ بِٱلۡأَمۡسِ يَسۡتَصۡرِخُهُۥۚ قَالَ لَهُۥ مُوسَىٰٓ إِنَّكَ لَغَوِيّٞ مُّبِينٞ


Urdu (Syed Abul A’la Maududi)

دُوسرے روز وہ صبح سویرے ڈرتا اور ہر طرف سے خطرہ بھانپتا ہوا شہر میں جا رہا تھا کہ یکایک کیا دیکھتا ہے کہ وہی شخص جس نے کل اسے مدد کے لیے پکارا تھا آج پھر اسے پکار رہا ہے موسیٰؑ نے کہا “تُو تو بڑا ہی بہکا ہُوا آدمی ہے


English (Sahih International)

And he became inside the city fearful and anticipating [exposure], when suddenly the one who sought his help the previous day cried out to him [once again]. Moses said to him, “Indeed, you are an evident, [persistent] deviator


Tafsir — Bayan ul Quran (Dr. Israr Ahmad)

آیت 18 فَاَصْبَحَ فِی الْْمَدِیْنَۃِ خَآءِفًا یَّتَرَقَّبُ ”ظاہر ہے قتل کے بعد شہر میں ہر طرف قاتل کو ڈھونڈنے کی دھوم مچی ہوگی۔ ہر طرح سے تفتیش و تحقیق ہو رہی ہوگی۔ چناچہ آپ علیہ السلام خوفزدہ بھی تھے کہ کہیں راز نہ کھل جائے اور محتاط و متجسسّ بھی۔فَاِذَا الَّذِی اسْتَنْصَرَہٗ بالْاَمْسِ یَسْتَصْرِخُہٗ ط ”وہی شخص آج پھر کسی سے الجھا ہوا تھا اور حضرت موسیٰ علیہ السلام کو دیکھ کر اس نے پھر آپ علیہ السلام کو مدد کے لیے پکارنا شروع کردیا۔قَالَ لَہٗ مُوْسٰٓی اِنَّکَ لَغَوِیٌّ مُّبِیْنٌ ”کہ کل بھی ایک قبطی سے تمہاری لڑائی ہو رہی تھی اور آج پھر تم نے کسی سے جھگڑا مول لے رکھا ہے۔ لگتا ہے تمہاری فطرت ہی ایسی ہے اور تم ہر کسی سے زیادتی کرتے ہو۔


Tafsir — Tazkirul Quran (Maulana Wahiduddin Khan)

This commentary covers ayaat 18 to 21.

اگلے دن وہی اسرائیلی دوبارہ ایک قبطی سے لڑ رہا تھا۔ یہ اس بات کا واضح قرینہ تھاکہ یہ ایک جھگڑالو قسم کا آدمی ہے اور روزانہ کسی نہ کسی سے لڑتا رہتا ہے۔ چنانچہ اپنی قوم کا فرد ہونے کے باوجود حضرت موسیٰ نے اس کو مجرم ٹھہرایا۔ مذکورہ اسرائیلي کا مجرم ہونا اس واقعہ سے مزید ثابت ہوگیا کہ اس اسرائیلی نے جب دیکھا کہ حضرت موسیٰ آج اس کی مدد نہیں کررہے ہیں اور اس کی امید کے خلاف خود اسی کو برا کہہ رہے ہیں تو وہ کمینہ پن پر اتر آیا۔ اس نے غیر ذمہ دارانہ طور پر کل کے قتل کا راز کھول دیا جو ابھی تک کسی کے علم میں نہ آیا تھا۔

اسرائیلی کی زبان سے قاتل کا نام نکلا تو بہت سے لوگوں نے سن لیا۔ چند دن میںاس کی خبر ہر طرف پھیل گئی۔ یہاں تک کہ حکمرانوں میں موسیٰ کے قتل کے مشورے ہونے لگے۔ ایک نیک بخت آدمی کو اس کا پتہ چل گیا۔ وہ خفیہ طورپر حضرت موسیٰ سے ملااورکہا کہ اس وقت یہی بہتر ہے کہ آپ اس جگہ کو چھوڑ دیں چنانچہ آپ مصر سے نکل کر مَدْیَن کی طرف روانہ ہوگئے۔ مدین خلیج عَقبہ کے مغربی ساحل پر تھا اور فرعون کی سلطنت کے حدود سے باہر تھا۔


Connections

  • Previous: 28_17
  • Next: 28_19
  • Thematic: (add links here)

Tafsir Notes