Recitation (Mishary Rashid Alafasy)
Arabic
وَيَوۡمَ يُنفَخُ فِي ٱلصُّورِ فَفَزِعَ مَن فِي ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَمَن فِي ٱلۡأَرۡضِ إِلَّا مَن شَآءَ ٱللَّهُۚ وَكُلٌّ أَتَوۡهُ دَٰخِرِينَ
Urdu (Syed Abul A’la Maududi)
اور کیا گزرے گی اس روز جب کہ صُور پھونکا جائے گا اور ہَول کھا جائیں گے وہ سب جو آسمانوں اور زمین میں ہیں، سوائے اُن لوگوں کے جنہیں اللہ اس ہَول سے بچانا چاہے گا، اور سب کان دبائے اس کے حضور حاضر ہو جائیں گے
English (Sahih International)
And [warn of] the Day the Horn will be blown, and whoever is in the heavens and whoever is on the earth will be terrified except whom Allah wills. And all will come to Him humbled
Tafsir — Bayan ul Quran (Dr. Israr Ahmad)
آیت 87 وَیَوْمَ یُنْفَخُ فِی الصُّوْرِ فَفَزِعَ مَنْ فِی السَّمٰوٰتِ وَمَنْ فِی الْاَرْضِ اِلَّا مَنْ شَآء اللّٰہُ ط ”نفخ صور سے ایک عمومی گھبراہٹ آسمانوں اور زمین کی تمام مخلوقات پر طاری ہوجائے گی ‘ سوائے ان کے جنہیں اللہ خود اس سے محفوظ رکھنا چاہے۔ جیسے آسمانوں پر فرشتے۔وَکُلٌّ اَتَوْہُ دَاخِرِیْنَ ”اس دن سب لوگ اللہ تعالیٰ کے حضور سر جھکائے مؤدّب کھڑے ہوں گے۔
Tafsir — Tazkirul Quran (Maulana Wahiduddin Khan)
This commentary covers ayaat 87 to 90.
موجودہ دنیا میں انکار کا اصل سبب انسان کی بے خوفی ہے۔ یہ دراصل بے خوفی کی نفسیات ہے جس کی وجہ سے آدمی حق کو نظر انداز کرتاہے اور اس کے مقابلہ میں سرکشی کا رویہ اختیار کرتا ہے۔ مگر جب امتحان کی مدت ختم ہوگی اور اس کی علامت کے طورپر صور پھونک دیا جائے گا تو اچانک لو گ محسوس کریں گے کہ ان کی بے خوفی محض بے خبری کی بناپر تھی۔ اس دن تمام بڑائیاں ریت کی دیوار کی طرح ڈھ جائیں گی۔ یہ ایسا سخت لمحہ ہوگا کہ انسان تو درکنار پہاڑ بھی ریزہ ریزہ ہوجائیں گے۔ اس وقت سارا عجز ایک طرف ہوجائے گا اور ساری قدرت دوسری طرف۔
اس دن وہ تمام چیزیں بالکل غیر اہم ہوجائیں گی جن کو لوگ دنیا میں اہم سمجھے ہوئے تھے۔ اس دن سارا وزن صرف عمل صالح میں ہوگا۔ اس دن کھونے والے پائیں گے اور پانے والے ابدی طورپر محروم ہو کر رہ جائیں گے۔