Recitation (Mishary Rashid Alafasy)

Next 27:61 Prev 27:59


Arabic

أَمَّنۡ خَلَقَ ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلۡأَرۡضَ وَأَنزَلَ لَكُم مِّنَ ٱلسَّمَآءِ مَآءٗ فَأَنۢبَتۡنَا بِهِۦ حَدَآئِقَ ذَاتَ بَهۡجَةٖ مَّا كَانَ لَكُمۡ أَن تُنۢبِتُواْ شَجَرَهَآۗ أَءِلَٰهٞ مَّعَ ٱللَّهِۚ بَلۡ هُمۡ قَوۡمٞ يَعۡدِلُونَ


Urdu (Syed Abul A’la Maududi)

بھلا وہ کون ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا اور تمہارے لیے آسمان سے پانی برسایا پھر اس کے ذریعہ سے وہ خوشنما باغ اگائے جن کے درختوں کا اگانا تمہارے بس میں نہ تھا؟ کیا اللہ کے ساتھ کوئی دوسرا خدا بھی (اِن کاموں میں شریک) ہے؟ (نہیں)، بلکہ یہی لوگ راہِ راست سے ہٹ کر چلے جا رہے ہیں


English (Sahih International)

[More precisely], is He [not best] who created the heavens and the earth and sent down for you rain from the sky, causing to grow thereby gardens of joyful beauty which you could not [otherwise] have grown the trees thereof? Is there a deity with Allah? [No], but they are a people who ascribe equals [to Him]


Tafsir — Bayan ul Quran (Dr. Israr Ahmad)

مَا کَانَ لَکُمْ اَنْ تُنْبِتُوْا شَجَرَہَا ط ”rّ متجسسانہ سوالات searching questions کا یہ انداز بہت مؤثر ہے۔ علامہ اقبالؔ ؔ نے اپنے ان اشعار میں یہی مضمون بالکل اسی انداز میں پیش کیا ہے : پالتا ہے بیج کو مٹی کی تاریکی میں کون کون دریاؤں کی موجوں سے اٹھاتا ہے سحاب ؟کون لایا کھینچ کر پچھم سے باد سازگار خاک یہ کس کی ہے ؟ کس کا ہے یہ نور آفتاب ؟کہ اللہ ہی ہواؤں کو چلاتا ہے ‘ بارش برساتا ہے ‘ موسموں کو سازگار بناتا ہے ‘ اناج اگاتا ہے ‘ غرض تمام امور اسی کے حکم اور اسی کی قدرت سے انجام پاتے ہیں۔ اللہ کی قدرت کاملہ کے بیان کا یہی انداز سورة الواقعہ میں بھی ملتا ہے۔ءَ اِلٰہٌ مَّعَ اللّٰہِ ط ”کیا ان سارے کاموں میں اللہ کے ساتھ کوئی اور الٰہ بھی شریک ہے ؟


Tafsir — Tazkirul Quran (Maulana Wahiduddin Khan)

This commentary covers ayaat 60 and 61.

کائنات ناقابل قیاس حد تک عظیم ہے۔ اس کی عظمت کے آگے وہ الفاظ سراسر ناکافی ہوجاتے ہیں جو گمراہ کن انسان اس کی غیر خدائی توجیہہ کے ليے بولتا رہا ہے۔ خواہ وہ قدیم مشرک انسان کے بت ہوں یا جدید ملحد انسان کے وہ نظریات جو اسباب اور اتفاقات کی اصطلاحوں میں بیان كيے جاتے ہیں۔

بے شمار اجرام کو پیدا کرکے انھیں اتھاہ خلا میں متحرک کرنا، زمین کو نہایت اعلیٰ اہتمام کے ذریعہ زندگی کے موافق بنانا، پانی اور نباتات جیسی نادر چیزوں کو انتہائی افراط کے ساتھ وجود میں لانا، مسلسل حرکت کرتی ہوئی زمین پر کامل سکون کے حالات پیدا کرنا، دریاؤں اور پہاڑوں کے ذریعہ زمین کو جائے رہائش بنانا، پانی کے سطحی تناؤ (surface tension) کے قانون کے ذریعہ کھاری پانی اور میٹھے پانی کو ایک دوسرے سے الگ رکھنا، یہ اور اس طرح کے دوسرے واقعات اس سے زیادہ عظیم ہیں کہ کوئی بت انھیں وقوع میںلائے یا کوئی اندھا طبیعی قانون ان کو وجود دے سکے۔

حقیقت یہ ہے کہ ایک اللہ کے سوا دوسری بنیادوں پر کائنات کی توجیہ کرنا جھوٹی توجیہ کو توجیہ کے قائم مقام بناناہے۔ یہ انحراف ہے، نہ کہ فی الواقع کوئی توجیہ۔


Connections

  • Previous: 27_59
  • Next: 27_61
  • Thematic: (add links here)

Tafsir Notes