Recitation (Mishary Rashid Alafasy)

Next 27:15 Prev 27:13


Arabic

وَجَحَدُواْ بِهَا وَٱسۡتَيۡقَنَتۡهَآ أَنفُسُهُمۡ ظُلۡمٗا وَعُلُوّٗاۚ فَٱنظُرۡ كَيۡفَ كَانَ عَٰقِبَةُ ٱلۡمُفۡسِدِينَ


Urdu (Syed Abul A’la Maududi)

انہوں نے سراسر ظلم اور غرور کی راہ سے ان نشانیوں کا انکار کیا حالانکہ دل ان کے قائل ہو چکے تھے اب دیکھ لو کہ ان مفسدوں کا انجام کیسا ہوا


English (Sahih International)

And they rejected them, while their [inner] selves were convinced thereof, out of injustice and haughtiness. So see how was the end of the corrupters


Tafsir — Bayan ul Quran (Dr. Israr Ahmad)

آیت 14 وَجَحَدُوْا بِہَا وَاسْتَیْقَنَتْہَآ اَنْفُسُہُمْ ظُلْمًا وَّعُلُوًّا ط ”اس فقرے میں ظُلْمًا وَّعُلُوًّا کا تعلق آغاز کے لفظ وَجَحَدُوْا کے ساتھ ہے۔ مضمون کے اعتبار سے یہ بہت اہم آیت ہے۔ اگرچہ انہوں نے بظاہر ان تمام نشانیوں کو جادو قرار دے کر حضرت موسیٰ علیہ السلام کو پیغمبر ماننے سے انکار کردیا تھا لیکن ان کا یہ انکار سراسر ناانصافی اور سرکشی پر مبنی تھا ‘ کیونکہ ان کے دل یہ حقیقت تسلیم کرچکے تھے کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام واقعی اللہ کے رسول ہیں اور یہ تمام خرق عادت واقعات حقیقت میں معجزات ہیں۔ ممکن ہے ان کے عوام کو یہ شعور نہ ہو لیکن کم از کم فرعون اور قوم کے بڑے بڑے سرداروں کی اس وقت یہی کیفیت تھی۔فَانْظُرْ کَیْفَ کَانَ عَاقِبَۃُ الْمُفْسِدِیْنَ ”اس رکوع میں اجمالاً حضرت موسیٰ علیہ السلام کا تذکرہ تھا ‘ اب اگلے رکوع سے حضرت داؤد اور حضرت سلیمان علیہ السلام کا ذکر شروع ہو رہا ہے۔


Tafsir — Tazkirul Quran (Maulana Wahiduddin Khan)

The commentary on this ayah is given with ayah 27:9.


Connections

  • Previous: 27_13
  • Next: 27_15
  • Thematic: (add links here)

Tafsir Notes