Recitation (Mishary Rashid Alafasy)
Arabic
إِلَّا مَن ظَلَمَ ثُمَّ بَدَّلَ حُسۡنَۢا بَعۡدَ سُوٓءٖ فَإِنِّي غَفُورٞ رَّحِيمٞ
Urdu (Syed Abul A’la Maududi)
اِلّا یہ کہ کسی نے قصور کیا ہو پھر اگر برائی کے بعد اُس نے بھَلائی سے اپنے فعل کو بدل لیا تو میں معاف کرنے والا مہربان ہوں
English (Sahih International)
Otherwise, he who wrongs, then substitutes good after evil - indeed, I am Forgiving and Merciful
Tafsir — Bayan ul Quran (Dr. Israr Ahmad)
آیت 11 اِلَّا مَنْ ظَلَمَ ”اس استثناء کو بعض مفسرین نے متصل مانا ہے اور بعض نے منقطع۔ متصل ہونے کی صورت میں مطلب یہ ہوگا کہ جس رسول سے کوئی قصور سرزد ہوا ہو اس پر خوف طاری ہوسکتا ہے۔ یعنی حضرت موسیٰ علیہ السلام پر اس وقت خوف کا طاری ہوجانا اس خطا کے سبب تھا جو قتل اگرچہ وہ قتل عمد نہیں تھا ‘ قتل خطا تھا کی صورت میں ان سے سرزد ہوئی تھی۔ لیکن اس کے برعکس کچھ مفسرین کے نزدیک یہ استثناء منقطع ہے ‘ یعنی یہ الگ جملہ ہے اور اس کا پچھلے جملے کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہے۔
Tafsir — Tazkirul Quran (Maulana Wahiduddin Khan)
The commentary on this ayah is given with ayah 27:9.