Recitation (Mishary Rashid Alafasy)
Arabic
رَبِّ هَبۡ لِي حُكۡمٗا وَأَلۡحِقۡنِي بِٱلصَّـٰلِحِينَ
Urdu (Syed Abul A’la Maududi)
(اِس کے بعد ابراہیمؑ نے دعا کی) “اے میرے رب، مجھے حکم عطا کر اور مجھ کو صالحوں کے ساتھ ملا
English (Sahih International)
[And he said], “My Lord, grant me authority and join me with the righteous
Tafsir — Bayan ul Quran (Dr. Israr Ahmad)
The commentary on this ayah is given with ayah 26:82.
Tafsir — Tazkirul Quran (Maulana Wahiduddin Khan)
This commentary covers ayaat 83 to 86.
اللہ تعالیٰ نے جب حضرت موسیٰ کو خبر دی کہ تمھاری قوم فتنہ میں مبتلا ہوگئی ہے تو وہ شدید جذبات میںبھرے ہوئے قوم کی طرف واپس آئے۔ انھوںنے ان کو یاد دلایا کہ ابھی ابھی خدا نے تمھارے اوپر اتنے احسانات کيے ہیں اور اپنی اتنی زیادہ نشانیاں تمھارے لیے ظاہر کی ہیں۔ پھر کیسے تم اتنی جلد سب بھول کر گمراہی میں پڑ گئے۔
حضرت موسیٰ بنی اسرائیل کے لیے اللہ کی کتاب لینے گئے۔ اور بنی اسرائیل کی بڑی تعداد کچھ لوگوں کی باتوں ميں آکر غیر اللہ کی پرستش میں مصروف ہوگئی۔ اس سے اندازہ ہوتاہے کہ بنی اسرائیل مصر کے مشرکانہ ماحول سے کتنا زیادہ متاثر ہوچکے تھے۔ اور کیوں یہ ضروری ہوگیاتھا کہ دوبارہ توحید کا پرستار بنانے کے لیے انھیں مصر کے ماحول سے نکال کر باہر لے جایا جائے۔
حضرت موسیٰ نے فرعون کے مقابلہ میں جو کچھ کیا وہ دعوت دین کا کام تھا۔ اور آپ نے بنی اسرائیل کے سلسلہ میں جو کچھ کیا وہ تحفظ دین کا کام۔ دونوں کام آپ نے ساتھ ساتھ انجام دئے۔ اس سے دونوں کاموں کی اہمیت معلوم ہوتی ہے۔ مسلمان اگر بگڑے ہوئے ہوں تو اس بنا پر دعوتِ عام کا کام روکا نہیں جاسکتا۔ اور اگر دعوت عام کا کام کرنا ہو تو وہ اس طرح نہیں کیا جائے گا کہ داخلی اصلاح کا کام بند کردیاجائے۔