Recitation (Mishary Rashid Alafasy)

Next 26:21 Prev 26:19


Arabic

قَالَ فَعَلۡتُهَآ إِذٗا وَأَنَا۠ مِنَ ٱلضَّآلِّينَ


Urdu (Syed Abul A’la Maududi)

موسیٰؑ نے جواب دیا “اُس وقت وہ کام میں نے نادانستگی میں کر دیا تھا


English (Sahih International)

[Moses] said, “I did it, then, while I was of those astray


Tafsir — Bayan ul Quran (Dr. Israr Ahmad)

آیت 20 قَالَ فَعَلْتُہَآ اِذًا وَّاَنَا مِنَ الضَّآلِّیْنَ ”یعنی یہ فعل مجھ سے نادانستگی میں ہوا تھا اور اس وقت میں ابھی حقیقت سے ناآشنا بھی تھا۔ ابھی رسالت اور نبوت مجھے نہیں ملی تھی اور میں خود تلاش حقیقت میں سرگرداں تھا۔ لفظ ”الضّال“ کے دو مفاہیم کے بارے میں سورة الفاتحہ کے مطالعے کے دوران وضاحت کی جا چکی ہے۔ اس لفظ کے ایک معنی تو راستے سے بھٹک جانے والے اور غلط فہمی کی بنا پر کوئی غلط راستہ اختیار کرلینے والے کے ہیں ‘ لیکن اس کے علاوہ جو شخص ابھی درست راستے کی تلاش میں سرگرداں ہو اس پر بھی اس لفظ کا اطلاق ہوتا ہے اور اسی مفہوم میں یہ لفظ سورة الضحیٰ کی اس آیت میں حضور ﷺ کے لیے استعمال ہوا ہے : وَوَجَدَکَ ضَآلًّا فَہَدٰی کہ ہم نے آپ ﷺ کو تلاش حقیقت میں سرگرداں پایا تو راہنمائی فرما دی !


Tafsir — Tazkirul Quran (Maulana Wahiduddin Khan)

This commentary covers ayaat 20 to 22.

حضرت موسیٰ نے فرعون کے سامنے توحید کی دعوت پیش کی اور عصا اور ید بیضا کا معجزہ دکھایا۔ فرعون نے آپ کی اہمیت گھٹانے کے ليے اس وقت آپ کی سابقہ زندگی کی دو باتیں یاد دلائیں۔ ایک، بچپن میں حضرت موسیٰ کا فرعون کے گھر میں پرورش پانا۔ دوسري، ایک قبطی کا قتل۔ حضرت موسیٰ نے جواب میں فرمایا کہ تمھارے گھر میں میری پرورش کی نوبت خود تمھارے ظلم کی وجہ سے آئی۔ تم چوں کہ بنی اسرائیل کے بچوں کو قتل کررہے تھے اس ليے میری ماں نے یہ کیا کہ مجھ کو ٹوکری میں رکھ کر بہتے دریا میں ڈال دیا۔ اور اس کے بعد خود تم نے مجھے دریا سے نکالا اور مجھ کو اپنے گھر میں رکھا۔ جہاں تک قبطی کے قتل کا معاملہ ہے تو وہ میں نے ارادۃً نہیں کیا۔ میں نے اپنے اسرائیلی بھائی کی طرف سے قبطی کی جارحیت کا دفاع کیا تھا اور وہ اتفاقاً مرگیا۔

حضرت موسیٰ قبطی کے قتل کے بعد مصر کو چھوڑ کر مدین چلے گئے تھے۔ وہاں وہ کئی برس تک رہے۔ شہر کی مصنوعی فضا سے نکل کر دیہات کی فطری فضا میں چند سال گزارنا شاید آپ کی تربیت کے ليے ضروری تھا۔ چنانچہ مدین سے نکل کر جب آپ دوبارہ مصر جانے لگے تو راستہ میں اللہ تعالیٰ نے آپ کو نبوت عطا فرمائی۔


Connections

  • Previous: 26_19
  • Next: 26_21
  • Thematic: (add links here)

Tafsir Notes