Recitation (Mishary Rashid Alafasy)

Next 25:76 Prev 25:74


Arabic

أُوْلَـٰٓئِكَ يُجۡزَوۡنَ ٱلۡغُرۡفَةَ بِمَا صَبَرُواْ وَيُلَقَّوۡنَ فِيهَا تَحِيَّةٗ وَسَلَٰمًا


Urdu (Syed Abul A’la Maududi)

یہ ہیں وہ لوگ جو اپنے صبر کا پھل منزل بلند کی شکل میں پائیں گے آداب و تسلیمات سے اُن کا استقبال ہو گا


English (Sahih International)

Those will be awarded the Chamber for what they patiently endured, and they will be received therein with greetings and [words of] peace


Tafsir — Bayan ul Quran (Dr. Israr Ahmad)

آیت 75 اُولٰٓءِکَ یُجْزَوْنَ الْغُرْفَۃَ بِمَا صَبَرُوْا ”اللہ تعالیٰ دنیا میں بندوں کو آزماتا رہتا ہے۔ ایک نیک انسان کی زندگی میں ایسے بیشمار مواقع آتے ہیں جب اس کے سامنے گناہ اور اللہ کی نافرمانی کا راستہ کھلا ہوتا ہے۔ یہ راستہ بےحد پر کشش بھی ہے اور آسان بھی۔ دوسری طرف نیکی اور اللہ کی فرمانبرداری کے راستے پر استقامت کے ساتھ چلنے کے لیے قدم قدم پر انسان کو صبر کرنا پڑتا ہے اور شہوات نفسانی کو قابو میں رکھنا پڑتا ہے۔ اس لحاظ سے ایک بندۂ مؤمن کی پوری زندگی ہی صبر سے عبارت ہے۔ چناچہ اس کے اس صبر کا بدلہ اسے آخرت میں جنت اور اس کی نعمتوں کی صورت میں دیا جائے گا۔


Tafsir — Tazkirul Quran (Maulana Wahiduddin Khan)

This commentary covers ayaat 75 to 77.

جنت کے اونچے بالا خانوں میں وہ لوگ جگہ پائیں گے جنھوں نے دنیا میںاپنے آپ کو حق کی خاطر نیچا کرلیاتھا۔ انھوں نے دنیا میں تواضع اختیار کی تھی اس ليے آخرت میں ان کا خدا انھیں سرفرازی عطا فرمائے گا۔ یہی وہ بات ہے جس کو حضرت مسیح نے ان لفظوں میں ادا فرمایا مبارک ہیں وہ جو دل کے غریب ہیں۔ آسمان کی بادشاہی میں وہی داخل ہوں گے(متی

5:3

)۔

وہ اوصاف جو کسی آدمی کو جنت میں لے جانے والے ہیں ان کو حاصل کرنا اس شخص کے ليے ممکن ہوتاہے جو صبر کرنے کے ليے تیار ہو۔ جنت وہ اعلیٰ مقام ہے جہاں آدمی کی تمام خواہشیں کامل طورپر پوری ہوں گی۔ مگر جنت اسی صابر انسان کے حصہ میں آئے گی جس نے دنیا میں اپنی خواہشوں پر کامل روک لگائی ہو۔ جنت صبر کی قیمت ہے۔ اور جہنم اس کے ليے ہے جو دنیا کی زندگی میں صبر کی مطلوبہ قیمت دینے کے ليے تیار نہیں ہوا تھا۔


Connections

  • Previous: 25_74
  • Next: 25_76
  • Thematic: (add links here)

Tafsir Notes