Recitation (Mishary Rashid Alafasy)
Arabic
وَقَالُواْ مَالِ هَٰذَا ٱلرَّسُولِ يَأۡكُلُ ٱلطَّعَامَ وَيَمۡشِي فِي ٱلۡأَسۡوَاقِ لَوۡلَآ أُنزِلَ إِلَيۡهِ مَلَكٞ فَيَكُونَ مَعَهُۥ نَذِيرًا
Urdu (Syed Abul A’la Maududi)
کہتے ہیں “یہ کیسا رسول ہے جو کھانا کھاتا ہے اور بازاروں میں چلتا پھرتا ہے؟ کیوں نہ اس کے پاس کوئی فرشتہ بھیجا گیا جو اس کے ساتھ رہتا اور (نہ ماننے والوں کو) دھمکاتا؟
English (Sahih International)
And they say, “What is this messenger that eats food and walks in the markets? Why was there not sent down to him an angel so he would be with him a warner
Tafsir — Bayan ul Quran (Dr. Israr Ahmad)
آیت 7 وَقَالُوْا مَالِ ہٰذَا الرَّسُوْلِ یَاْکُلُ الطَّعَامَ وَیَمْشِیْ فِی الْاَسْوَاقِ ط ”کہ ایک ایسا شخص اللہ کا بھیجا ہوا رسول کیسے ہوسکتا ہے جس کو کھانے کی حاجت بھی ہو اور وہ عام انسانوں کی طرح بازاروں میں خریدو فروخت بھی کرتا پھرتا ہو۔لَوْلَآ اُنْزِلَ اِلَیْہِ مَلَکٌ فَیَکُوْنَ مَعَہٗ نَذِیْرًا ”ہاں اگر یہ واقعی اللہ کے رسول ہیں تو ان پر آسمان سے کوئی فرشتہ کیوں نہیں اتارا گیا جو ہماری آنکھوں کے سامنے پرواز کرتے ہوئے نازل ہوتا ‘ ان کے رسول ہونے کی گواہی دیتا اور پھر یہ جدھر بھی جاتے ‘ وہ فرشتہ لوگوں کو خبردار کرنے کے لیے ہٹو بچو کا نعرہ لگاتے ہوئے ان کے ساتھ ساتھ چلتا اور نہ ماننے والوں کو دھمکاتا !
Tafsir — Tazkirul Quran (Maulana Wahiduddin Khan)
This commentary covers ayaat 7 to 9.
حق کے ہر داعی کے ساتھ یہ ہوا ہے کہ اس کے زمانہ کے لوگوں نے اس کو حقیر سمجھا۔ اور بعد کے لوگوں نے اس کی پرستش کی۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اپنی زندگی میں وہ اپنی حقیقی شخصیت کے ساتھ لوگوں کے سامنے ہوتا ہے۔ اس ليے وہ انھیں بس ایک عام انسان کی مانند دکھائی دیتا ہے۔ مگر بعد کو اس کی شخصیت کے گرد افسانوی قصوں کا ہالہ بن جاتا ہے۔ بعد کے لوگ اس کو مبالغہ آمیز روپ میں دیکھتے ہیں۔ اس ليے بعد کے لوگ مبالغہ آمیز حد تک اس کی تعظیم وتقدیس کرنے لگتے ہیں۔
بعد کے زمانے میں لوگوں کے ذہنوں میں پیغمبر کی غیر معمولی عظمت قائم ہوجاتی ہے۔ اس ليے کوئی بڑا اپنے آپ کو پیغمبر سے بڑا نہیں پاتا۔ مگر پیغمبر کی زندگی میں اس کی جو ظاہری صورت حال ہوتی ہے وہ وقت کے بڑوں کو موقع دیتی ہے کہ وہ پیغمبر کے مقابلہ میں متکبرانہ نفسیات میں مبتلا ہوسکیں۔ ایسے لوگ جب کچھ لوگوں کو دیکھتے ہیں کہ وہ پیغمبر کی باتوں کو سن کر متاثر ہورہے ہیں تو وہ ان کے تاثر کو گھٹانے کے ليے کہہ دیتے ہیں کہ یہ تو ایک مجنون ہے، یہ تو ایک سحر زدہ انسان ہے، وغیرہ۔ وہ دلیل کے میدان میں اپنے آپ کو عاجز پاکر عیب لگانے کا طریقہ اختیار کرتے ہیں۔ حالاں کہ دلیل کے ذریعہ کسی کو ردکرنا عین درست ہے جب کہ عیب لگا کر کسی کو بدنام کرنا سراسر نادرست۔