Recitation (Mishary Rashid Alafasy)
Arabic
وَٱلَّذِينَ لَا يَدۡعُونَ مَعَ ٱللَّهِ إِلَٰهًا ءَاخَرَ وَلَا يَقۡتُلُونَ ٱلنَّفۡسَ ٱلَّتِي حَرَّمَ ٱللَّهُ إِلَّا بِٱلۡحَقِّ وَلَا يَزۡنُونَۚ وَمَن يَفۡعَلۡ ذَٰلِكَ يَلۡقَ أَثَامٗا
Urdu (Syed Abul A’la Maududi)
جو اللہ کے سوا کسی اور معبود کو نہیں پکارتے، اللہ کی حرام کی ہوئی کسی جان کو ناحق ہلاک نہیں کرتے، اور نہ زنا کے مرتکب ہوتے ہیں یہ کام جو کوئی کرے وہ اپنے گناہ کا بدلہ پائے گا
English (Sahih International)
And those who do not invoke with Allah another deity or kill the soul which Allah has forbidden [to be killed], except by right, and do not commit unlawful sexual intercourse. And whoever should do that will meet a penalty
Tafsir — Bayan ul Quran (Dr. Israr Ahmad)
وَلَا یَقْتُلُوْنَ النَّفْسَ الَّتِیْ حَرَّمَ اللّٰہُ اِلَّا بالْحَقِّ وَلَا یَزْنُوْنَ ط ”حق سے مراد یہاں وہ قانونی صورتیں ہیں جن صورتوں میں کسی انسان کی جان لی جاسکتی ہے ‘ یعنی قتل کے بدلے قتل ‘ مرتد کا قتل ‘ حربی کافر کا قتل اور شادی شدہ زانی کا رجم۔ اس آیت میں تین کبیرہ گناہوں کا ذکر ہوا ہے : شرک ‘ قتلِ ناحق اور زنا۔ شرک کے بارے میں تو اللہ تعالیٰ نے قرآن میں دو دفعہ فرما دیا کہ مشرک کو ہرگز معاف نہیں کیا جائے گا۔ اور قتل ایسا بھیانک گناہ اور جرم ہے جس سے تمدن کی جڑ کٹتی ہے ‘ جبکہ زنا سے معاشرہ گندگی کا ڈھیر بن جاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے سورة النساء میں ایسے کبیرہ گناہوں سے بچنے والوں کے لیے چھوٹے گناہوں سے معافی کی خوشخبری سنائی ہے : اِنْ تَجْتَنِبُوْا کَبآءِرَ مَا تُنْہَوْنَ عَنْہُ نُکَفِّرْ عَنْکُمْ سَیِّاٰتِکُمْ وَنُدْخِلْکُمْ مُّدْخَلاً کَرِیْمًا النساء ”اگر تم لوگ بچتے رہو کبیرہ گناہوں سے جن سے تمہیں منع کیا گیا ہے تو ہم تمہارے چھوٹے گناہ بخش دیں گے اور تمہیں عزت والی جگہ داخل کریں گے۔“
Tafsir — Tazkirul Quran (Maulana Wahiduddin Khan)
This commentary covers ayaat 68 to 71.
اِس آیت میں تین گناہوں کا ذکر ہے۔ شرک اور قتل ناحق اور زنا۔ یہ تینوں گناہ خدااور بندوں کے حق میں سب سے بڑے گناہ ہیں۔ اللہ پر حقیقی ایمان کی علامت یہ ہے کہ آدمی ان تینوں گناہوں سے دور ہو جائے جو لوگ ان گناہوں میں ملوث ہوں وہ توبہ کرکے ان کے انجام سے بچ سکتے ہیں۔ جو لوگ توبہ اور رجوع کے بغیر مرجائیں ان کے ليے خدا کے یہاں نہایت سخت سزا ہے جس سے وہ کسی حال میں بچ نہ سکیں گے۔
خدا کے نزدیک اصل نیکی یہ ہے کہ آدمی خدا سے ڈرنے والا بن جائے۔ جو نیکی آدمی کو خدا سے بے خوف کرے وہ بدی ہے۔ اور جو بدی آدمی کو خدا سے ڈرائے وہ اپنے انجام کے اعتبار سے نیکی۔
اگر ایک آدمی سے برائی ہوجائے۔ اس کے بعد اس کو خدا کی یاد آئے۔ وہ خداکی باز پرس کو سوچ کر تڑپ اٹھے اور توبہ اور استغفار کرتے ہوئے خدا کی طرف دوڑ پڑے تو خدا اپنی رحمت سے ایسی برائی کو نیکی کے خانہ میں لکھ دے گا۔ کیوں کہ وہ آدمی کو خدا کی طرف رجوع کرنے کا سبب بن گئی۔