Recitation (Mishary Rashid Alafasy)
Arabic
وَعِبَادُ ٱلرَّحۡمَٰنِ ٱلَّذِينَ يَمۡشُونَ عَلَى ٱلۡأَرۡضِ هَوۡنٗا وَإِذَا خَاطَبَهُمُ ٱلۡجَٰهِلُونَ قَالُواْ سَلَٰمٗا
Urdu (Syed Abul A’la Maududi)
رحمان کے (اصلی) بندے وہ ہیں جو زمین پر نرم چال چلتے ہیں اور جاہل ان کے منہ کو آئیں تو کہہ دیتے ہیں کہ تم کو سلام
English (Sahih International)
And the servants of the Most Merciful are those who walk upon the earth easily, and when the ignorant address them [harshly], they say [words of] peace
Tafsir — Bayan ul Quran (Dr. Israr Ahmad)
آیت 63 وَعِبَاد الرَّحْمٰنِ الَّذِیْنَ یَمْشُوْنَ عَلَی الْاَرْضِ ہَوْنًا ”وہ اپنے آپ کو آقا اور مالک نہیں بلکہ اللہ کے بندے اور غلام سمجھتے ہیں۔ وہ چلتے بھی غلاموں ہی کی طرح ہیں۔ ان کی چال میں اکڑ کی بجائے عاجزی اور فروتنی ہوتی ہے۔وَّاِذَا خَاطَبَہُمُ الْجٰہِلُوْنَ قَالُوْا سَلٰمًا ”عربی میں جاہل کا معنی اَن پڑھ یا بےعلم آدمی نہیں ‘ بلکہ اس سے مراد اجڈ اور مشتعل مزاج شخص ہے جو جہالت پر اتر آئے اور کسی شریف آدمی سے بدتمیزی کا برتاؤ کرے۔ ”عباد الرحمن“ کی دوسری صفت یہ بیان کی گئی ہے کہ جب وہ دیکھتے ہیں کہ جاہل اور اجڈ قسم کے لوگ ان کی بات کو سمجھنے اور اس سے اثر لینے کی بجائے پنجابی محاورہ کے مطابق ان سے محض سینگ پھنسانا چاہتے ہیں یعنی انہیں خواہ مخواہ بحث و مباحثہ میں الجھانا چاہتے ہیں تو انہیں سلام کرکے وہ اپنی راہ لیتے ہیں۔ کیونکہ ایسی گفتگو یا بحث سے وقت کے ضیاع کے علاوہ کچھ حاصل ہونے کی توقع نہیں ہوتی۔ چناچہ ایک سمجھدار اور معقول آدمی کو چاہیے کہ وہ مناسب انداز میں دوسرے کو اپنی بات سمجھانے کی کوشش کرے ‘ لیکن جب اسے محسوس ہو کہ اس کا مخاطب جان بوجھ کر بات کو سمجھنا نہیں چاہتا اور خواہ مخواہ کی بحث میں الجھنا چاہتا ہے تو وہ کسی قسم کی بد مزگی پیدا کیے بغیر خود کو ایسی صورت حال سے الگ کرلے۔
Tafsir — Tazkirul Quran (Maulana Wahiduddin Khan)
This commentary covers ayaat 63 to 67.
’’چلنا‘‘ پوری شخصیت کی علامت ہے۔ جن لوگوں کے دل میں اللہ کا یقین اتر جائے وہ سراپا عجز وتواضع بن جاتے ہیں۔ خدا کا خوف ان سے بڑائی کا احساس چھین لیتاہے۔ ان کا چلنا پھرنا اور رہنا سہنا ایسا ہوجاتا ہے جس میں عبدیت کی روح پوری طرح سمائی ہوئی ہو۔
رحمن کے بندوں کا معاملہ اگر صرف اتنا ہی ہو تو کوئی بھی ان سے نہ الجھے۔ مگر خدا کی معرفت انھیں خدا کا داعی بھی بنا دیتی ہے۔ بس یہیںسے ان کا ٹکراؤ دوسروں سے شروع ہوجاتاہے۔ ان کا اعلان حق باطل پرستوں کے ليے ناقابل برداشت ہوجاتاہے اور وہ ان سے ٹکرانے کے ليے آجاتے ہیں۔ مگر یہاں بھی خدا کا خوف انھیں جوابی ٹکراؤ سے روک دیتاہے۔ وہ ان کے حق میں ہدایت کی دعا کرتے ہوئے ان سے الگ ہوجاتے ہیں۔
خدا کی معرفت ہی کا یہ نتیجہ بھی ہے کہ ان کی زندگی میںایک کبھی نہ ختم ہونے والی بے چینی شامل ہوجاتی ہے۔ وہ نہ صرف دن کے وقت خدا کو بے تابانہ پکارتے رہتے ہیں بلکہ ان کی راتوں کی تنہائیاں بھی خدا کی یاد میں بسر ہونے لگتی ہیں۔
اسی طرح خدا کا احساس انھیں حد درجہ محتاط بنا دیتاہے۔ وہ ذمہ دارانہ طورپر کماتے ہیں اور ذمہ دارانہ طورپر خرچ کرتے ہیں۔ خداکے آگے جواب دہی کا احساس انھیں اپنے آمد وخرچ کے معاملے میں معتدل اور محتاط بنا دیتاہے۔ حدیث میں آتاہے کہ یہ آدمی کی دانائی میں سے ہے کہ وہ اپنی معیشت میں بیچ کی راہ اختیار کرے (مِنْ فِقْهِ الرَّجُلِ رِفْقُهُ فِي مَعِيشَتِهِ) مسند احمد، حدیث نمبر 21695۔ رفقہ ای قصدہ۔