Recitation (Mishary Rashid Alafasy)
Arabic
تَبَارَكَ ٱلَّذِي جَعَلَ فِي ٱلسَّمَآءِ بُرُوجٗا وَجَعَلَ فِيهَا سِرَٰجٗا وَقَمَرٗا مُّنِيرٗا
Urdu (Syed Abul A’la Maududi)
بڑا متبرک ہے وہ جس نے آسمان میں برج بنائے اور اس میں ایک چراغ اور ایک چمکتا چاند روشن کیا
English (Sahih International)
Blessed is He who has placed in the sky great stars and placed therein a [burning] lamp and luminous moon
Tafsir — Bayan ul Quran (Dr. Israr Ahmad)
اب اس سورة کا آخری رکوع شروع ہو رہا ہے جو ہمارے مطالعہ قرآن حکیم کے منتخب نصاب کا ایک اہم درس درس نمبر 11 بھی ہے۔ منتخب نصاب کے حصہ اول میں چار جامع اسباق ہیں۔ ان میں سے دوسرا درس آیت البر سورۃ البقرۃ کی آیت 177 پر مشتمل ہے ‘ جس کا مطالعہ ہم کرچکے ہیں۔ حصہ دوم میں ”مباحث ایمان“ کے عنوان کے تحت پانچ دروس ہیں جن میں سے تین مقامات سورۃ الفاتحہ ‘ سورة آل عمران کے آخری رکوع کی آیات اور سورة النور کی آیات نور یعنی پانچواں رکوع کا مطالعہ ہم اس سے پہلے کرچکے ہیں۔ منتخب نصاب کا تیسرا حصہ ”مباحث عمل صالح“ پر مشتمل ہے اور اس حصے کا پہلا درس سورة المؤمنون کی ابتدائی آیات کے حوالے سے ہے ‘ جن کا مطالعہ ہم کرچکے ہیں۔ ان آیات میں ایک بندۂ مؤمن کی سیرت کی تعمیر کے لیے بنیادی اساسات کے بارے میں راہنمائی کی گئی ہے ‘ جبکہ سورة الفرقان کے آخری رکوع کی جن آیات کا مطالعہ اب ہم کرنے چلے ہیں منتخب نصاب کے تیسرے حصے کا دوسرا درس ان آیات کے حوالے سے ہے ان میں بندۂ مؤمن کی تعمیر شدہ mature شخصیت و سیرت کے خصائص اور خدوخال کے بارے میں بتایا گیا ہے۔ لیکن اس موضوع کو شروع کرنے سے پہلے رکوع کی ابتدائی دو آیات میں ایمان کے بارے میں قرآن حکیم کے فطری استدلال کا خلاصہ بیان ہوا ہے :آیت 61 تَبٰرَکَ الَّذِیْ جَعَلَ فِی السَّمَآءِ بُرُوْجًا وَّجَعَلَ فِیْہَا سِرٰجًا وَّقَمَرًا مُّنِیْرًا ”یہاں سورج کے لیے ”سراج“ یعنی چراغ کا لفظ استعمال ہوا ہے اور چاند کو روشن بتایا گیا ہے۔ اس سلسلے میں اب تک یہ حقیقت انسان کے علم میں آچکی ہے کہ سورج کے اندر جلنے یا تحریق combustion کا عمل جاری ہے ‘ جس کی وجہ سے وہ روشنی کے ساتھ ساتھ حرارت کا منبع بھی ہے ‘ جبکہ چاند محض سورج کی روشنی کے انعطاف reflection کی وجہ سے روشن نظر آتا ہے اور اس میں کسی قسم کا عمل تحریق نہیں پایا جاتا۔ اس کی سطح ہماری زمین کی سطح سے ملتی جلتی ہے۔ اب تو انسان خود چاند کی سطح کا عملی طور پر مشاہدہ بھی کرچکا ہے۔
Tafsir — Tazkirul Quran (Maulana Wahiduddin Khan)
This commentary covers ayaat 61 and 62.
برج کے لفظی معنی قلعہ کے ہیں۔ آسمانی برج سے کیا مراد ہے، اس کی کوئی متفقہ تفسیر ابھی تک نہیں کی جاسکی ہے۔ ممکن ہے کہ اس سے مراد وہ چیز ہو جس کو موجودہ زمانہ میں شمسی نظام کہاجاتا ہے۔ کائنات میں کروڑوں کی تعداد میں شمسی نظام پائے جاتے ہیں۔ انھیں میں سے ایک وہ ہے جو ہم سے قریب ہے اور جس کے اندر ہماری زمین اور سورج اور چاند واقع ہیں۔
شمسی نظام کی بے شمار نشانیوں میں سے ایک نشانی زمین کا سورج کے گرد مسلسل گھومنا ہے۔ اس کی ایک گردش مدار پر ہوتی ہے۔ یہ گردش سال میں پوری ہوتی ہے اور اس کی وجہ سے موسم واقع ہوتے ہیں۔ اس کی دوسری گردش اس کے محور پر ہوتی ہے۔ یہ
24
گھنٹہ میں پوری ہوجاتی ہے اور اس سے رات اور دن پیدا ہوتے ہیں۔
اتھاہ خلا میں حددرجہ صحت کے ساتھ زمین کی گردش اور اس کا انسانی مصلحتوں کے اتنا زیادہ موافق ہونا اتنے حیرت ناک واقعات ہیں کہ جو شخص ان پر غور کرے گا وہ شکر خداوندی کے جذبہ میں غرق ہو کر رہ جائے گا۔