Recitation (Mishary Rashid Alafasy)

Next 25:54 Prev 25:52


Arabic

۞وَهُوَ ٱلَّذِي مَرَجَ ٱلۡبَحۡرَيۡنِ هَٰذَا عَذۡبٞ فُرَاتٞ وَهَٰذَا مِلۡحٌ أُجَاجٞ وَجَعَلَ بَيۡنَهُمَا بَرۡزَخٗا وَحِجۡرٗا مَّحۡجُورٗا


Urdu (Syed Abul A’la Maududi)

اور وہی ہے جس نے دو سمندروں کو ملا رکھا ہے ایک لذیذ و شیریں، دوسرا تلخ و شور اور دونوں کے درمیان ایک پردہ حائل ہے ایک رکاوٹ ہے جو انہیں گڈ مڈ ہونے سے روکے ہوئے ہے


English (Sahih International)

And it is He who has released [simultaneously] the two seas, one fresh and sweet and one salty and bitter, and He placed between them a barrier and prohibiting partition


Tafsir — Bayan ul Quran (Dr. Israr Ahmad)

ہٰذَا عَذْبٌ فُرَاتٌ وَّہٰذَا مِلْحٌ اُجَاجٌ ج ”اس کی قدرت سے نمکین اور کھارے سمندر کے اندر میٹھے پانی کی رو بھی بہہ رہی ہے۔وَجَعَلَ بَیْنَہُمَا بَرْزَخًا وَّحِجْرًا مَّحْجُوْرًا ”یہ پردہ ‘ آڑ یا روک نظر آنے والی کوئی چیز تو نہیں ہے ‘ لیکن یہ اللہ تعالیٰ کی صناعیّ کا شاہکار ہے کہ میٹھا پانی کڑوے پانی کے ساتھ سمندر کے اندر دور تک ملنے نہیں پاتا۔


Tafsir — Tazkirul Quran (Maulana Wahiduddin Khan)

This commentary covers ayaat 53 and 54.

جب کسی سنگم پر دو دریا ملتے ہیں یا کوئی بڑا دریا سمندر میں جاکر گرتاہے تو ایسے مقام پر باہم ملنے کے باوجود دونوں پانی الگ الگ رہتا ہے۔ دونوں کے بیچ میں ایک دھاری دور تک جاتی ہوئی نظر آتی ہے۔ راقم الحروف نےیہ منظر الٰہ آباد میں گنگا اور جمنا کے سنگم پر دیکھا ہے۔ یہ واقعہ اس قدرتی قانون کے تحت ہوتا ہے جس کو موجودہ زمانہ میں سطحی تناؤ (surface tension) کہاجاتا ہے۔ اسی طرح جب سمندر میں جوار بھاٹا آتا ہے تو سمندر کا کھاری پانی ساحلی دریا کے میٹھے پانی کے اوپر چڑھ جاتاہے۔ مگر سطحی تناؤ دونوں پانی کو بالکل الگ رکھتا ہے۔اور جب سمندر کا پانی دوبارہ اترتا ہے تو اس کا کھاری پانی اوپر اوپر سے واپس چلا جاتاہے اور نیچے کا میٹھا پانی بدستور اپنی سابقہ حالت پر باقی رہتا ہے۔ حتی کہ اسی سطحی تناؤ کے قانون کی وجہ سے یہ ممکن ہوا ہے کہ کھاری سمندروں کے عین بیچ میں میٹھے پانی کے ذخیرے موجود رہیں اور بحری مسافروں کو میٹھا پانی فراہم کرسکیں۔

انسانی جسم کی اصل پانی ہے۔ پانی سے انسان جیسی حیرت انگیز نوع بنی۔ پھر نسبی تعلقات اور سسرالی روابط کے ذریعے اس کی نسل چلتی رہی— اس طرح کے مختلف واقعات جو زمین پر پائے جاتے ہیں ان پر غور کیا جائے تو ان میں خدا کی قدرت کی نشانیاں چھپی ہوئی نظر آئیں گی۔


Connections

  • Previous: 25_52
  • Next: 25_54
  • Thematic: (add links here)

Tafsir Notes