Recitation (Mishary Rashid Alafasy)

Next 25:42 Prev 25:40


Arabic

وَإِذَا رَأَوۡكَ إِن يَتَّخِذُونَكَ إِلَّا هُزُوًا أَهَٰذَا ٱلَّذِي بَعَثَ ٱللَّهُ رَسُولًا


Urdu (Syed Abul A’la Maududi)

یہ لوگ جب تمہیں دیکھتے ہیں تو تمہارا مذاق بنا لیتے ہیں (کہتے ہیں) “کیا یہ شخص ہے جسے خدا نے رسول بنا کر بھیجا ہے؟


English (Sahih International)

And when they see you, [O Muhammad], they take you not except in ridicule, [saying], “Is this the one whom Allah has sent as a messenger


Tafsir — Bayan ul Quran (Dr. Israr Ahmad)

آیت 41 وَاِذَا رَاَوْکَ اِنْ یَّتَّخِذُوْنَکَ اِلَّا ہُزُوًا ط ”قریش مکہ کے ہاں حضور ﷺ کی دعوت کی مخالفت کا یہ بھی ایک طریقہ تھا کہ وہ بات سننے کے لیے کبھی سنجیدہ نہ ہوتے اور آپ ﷺ کی دعوت کو ہمیشہ مذاق میں اڑا دیتے۔ نہ وہ آپ ﷺ کی بات کو کبھی سنجیدگی سے سنتے ‘ نہ کبھی اس پر غور کرتے اور نہ ہی اس کا کوئی سنجیدہ جواب دیتے۔اَہٰذَا الَّذِیْ بَعَثَ اللّٰہُ رَسُوْلًا۔ ”یہ اور اس طرح کے دوسرے جملوں کے ذریعے وہ لوگ آپ ﷺ کا تمسخر اڑاتے تھے۔


Tafsir — Tazkirul Quran (Maulana Wahiduddin Khan)

This commentary covers ayaat 41 and 42.

’’اگر ہم جمے نہ رہتے تو وہ ہم کو ہمارے دین سے ہٹا دیتا‘‘— اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ان کے اپنے دین پر قائم رہنے کی وجہ ان کا تعصب تھا نہ کہ کوئی دلیل۔ دلیل کے میدان میں وہ بے ہتھیار ہوچکے تھے۔ مگر تعصب کے بل پر وہ اپنے آبائی دین پر جمے رہے۔ یہی اکثر انسانوں کا حال ہوتا ہے۔ بیشتر انسان محض تعصب کی زمین پر کھڑے ہوتے ہیں۔ اگرچہ زبان سے وہ ظاہر کرتے ہیں کہ وہ دلیل کی زمین پر کھڑے ہوئے ہیں۔

کسی دعوت کا مقابلہ کرنے کے دو طریقے ہیں۔ ایک ہے اس کو دلیل سے رد کرنا۔ دوسراہے اس کا مذاق اڑانا۔ پہلا طریقہ جائز ہے اور دوسرا طریقہ سراسر ناجائز۔ جو لوگ کسی دعوت کا مذاق اڑائیں وہ صرف یہ ثابت کرتے ہیں کہ دلیل کے میدان میں وہ اپنی بازی ہار چکے ہیں۔ اور اب مذاق اور استہزاء کی باتوں سے اپنی ہارپر پرده ڈالنا چاہتے ہوں۔


Connections

  • Previous: 25_40
  • Next: 25_42
  • Thematic: (add links here)

Tafsir Notes