Recitation (Mishary Rashid Alafasy)
Arabic
وَلَقَدۡ ءَاتَيۡنَا مُوسَى ٱلۡكِتَٰبَ وَجَعَلۡنَا مَعَهُۥٓ أَخَاهُ هَٰرُونَ وَزِيرٗا
Urdu (Syed Abul A’la Maududi)
ہم نے موسیٰؑ کو کتاب دی اور اس کے ساتھ اس کے بھائی ہارونؑ کو مددگار کے طور پر لگایا
English (Sahih International)
And We had certainly given Moses the Scripture and appointed with him his brother Aaron as an assistant
Tafsir — Bayan ul Quran (Dr. Israr Ahmad)
آیت 35 وَلَقَدْ اٰتَیْنَا مُوْسَی الْکِتٰبَ وَجَعَلْنَا مَعَہٗٓ اَخَاہُ ہٰرُوْنَ وَزِیْرًا ”حضرت موسیٰ علیہ السلام کی مدد اور معاونت کے لیے حضرت ہارون علیہ السلام کو ان کے مددگار کے طور پر رسالت کی ذمہ داری سونپ دی گئی تھی۔ وزیر ”وِزر“ بوجھ سے ہے ‘ یعنی ذمہ داریوں کا بوجھ اٹھانے میں معین و مددگار۔
Tafsir — Tazkirul Quran (Maulana Wahiduddin Khan)
This commentary covers ayaat 35 to 40.
قرآن بار بار جن پیغمبروں کا حوالہ دیتاہے ان میں سے اکثر وہ ہیں جن کا ذکر انسانیت کی مدون تاریخ میں جگہ نہ پاسکا۔ اس سے اندازہ ہوتاہے کہ ان پیغمبروں کے ہم عصر عقلاء نے ان کو کوئی اہمیت نہ دی۔ انھوںنے بادشاہوں اور فوجی ہیروؤں کے حالات جوش کے ساتھ لکھے کیوں کہ ان کے حالات میں سیاسی پہلو موجود تھا۔ مگر انھوں نے پیغمبروں کو نظر انداز کردیا کیوں کہ ان کے حالات میں سیاسی ذوق کی تسکین کا سامان موجود نہ تھا۔
عجیب بات ہے کہ یہ مزاج آج بھی مکمل طورپر موجود ہے۔ آج بھی جو لوگ اپنے آپ کو سیاسی پلیٹ فارم پر نمایاں کریں وہ فوراً پریس اور ریڈیو میں جگہ پالیتے ہیں اور جو لوگ غیر سیاسی میدان میں کام کریں ان کو آج کا انسان بھی زیادہ قابل تذکرہ نہیں سمجھتا۔
انسان سے سب سے زیادہ جو چیز مطلوب ہے وہ یہ کہ وہ واقعات سے سبق لے۔ مگر یہی وہ چیز ہے جو انسان کے اندر سب سے کم پائی جاتی ہے، موجودہ زمانہ میں بھی اور اس سے پہلے کے زمانہ میں بھی۔