Recitation (Mishary Rashid Alafasy)

Next 25:22 Prev 25:20


Arabic

۞وَقَالَ ٱلَّذِينَ لَا يَرۡجُونَ لِقَآءَنَا لَوۡلَآ أُنزِلَ عَلَيۡنَا ٱلۡمَلَـٰٓئِكَةُ أَوۡ نَرَىٰ رَبَّنَاۗ لَقَدِ ٱسۡتَكۡبَرُواْ فِيٓ أَنفُسِهِمۡ وَعَتَوۡ عُتُوّٗا كَبِيرٗا


Urdu (Syed Abul A’la Maududi)

جو لوگ ہمارے حضور پیش ہونے کا اندیشہ نہیں رکھتے وہ کہتے ہیں “کیوں نہ فرشتے ہمارے پاس بھیجے جائیں؟ یا پھر ہم اپنے رب کو دیکھیں” بڑا گھمنڈ لے بیٹھے یہ اپنے نفس میں اور حد سے گزر گئے یہ اپنی سرکشی میں


English (Sahih International)

And those who do not expect the meeting with Us say, “Why were not angels sent down to us, or [why] do we [not] see our Lord?” They have certainly become arrogant within themselves and [become] insolent with great insolence


Tafsir — Bayan ul Quran (Dr. Israr Ahmad)

اَوْ نَرٰی رَبَّنَاط ”اللہ کے حضور حاضری پر ایمان نہ ہونے کی وجہ سے ان لوگوں کی طبیعتوں میں سر کشی اور لاپرواہی پائی جاتی ہے۔ چناچہ ایمان کی دعوت کو قبول کرنے کے بجائے جواب میں وہ طرح طرح کی باتیں بناتے ہیں۔ مثلاً یہ کہ اگر اللہ نے ہمیں کوئی پیغام بھیجنا ہی تھا تو اپنے فرشتوں کے ذریعے بھجواتا یا وہ خود ہمارے سامنے آجاتا اور ہم اپنی آنکھوں سے اسے دیکھ لیتے۔ یا یہ کہ اللہ کی طرف سے ہمیں کوئی ایسا معجزہ دکھایا جاتا جس سے ہم پر واضح ہوجاتا کہ محمد ﷺ واقعی اللہ کے رسول ﷺ ہیں۔ ان کے ایسے مطالبات کا ذکر مکیّ سورتوں میں بار بار کیا گیا ہے۔لَقَدِ اسْتَکْبَرُوْا فِیْٓ اَنْفُسِہِمْ وَعَتَوْ عُتُوًّا کَبِیْرًا ”ان کے یہ مطالبات ان کے استکبار کا ثبوت اور ان کی سر کشی کی دلیل ہیں۔ گویا وہ خود کو اس لائق سمجھتے ہیں کہ ان پر فرشتوں کا نزول ہو اور اللہ خود ان کے روبرو ان سے ہم کلام ہو۔


Tafsir — Tazkirul Quran (Maulana Wahiduddin Khan)

This commentary covers ayaat 21 to 24.

جو لوگ داعی کے پیغام کو ماننے کے ليے فرشتے اور خدا کے ظہور کا مطالبہ کریں وہ کوئی واقعی بات نہیں کہتے۔ وہ صرف اپنی غیر سنجیدگی کا ثبوت دیتے ہیں۔ انھیں معلوم نہیں کہ خدا اور فرشتوں کا ظہور کیا معنی رکھتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ان کے ليے بولنے کا جو موقع ہے وہ صرف اسی وقت تک ہے جب تک حق کو داعی کی سطح پر ظاہر کیا گیا ہو۔ جب حق خدا اور فرشتوں کی سطح پر ظاہر ہو جائے تو وہ فیصلہ کا وقت ہوتا ہے، نہ کہ ماننے اور تصدیق کرنے کا۔

بہت سے لوگ اس غلط فہمی میں رہتے ہیں کہ قیامت میں جب خدا پوچھے گا کہ کیا لائے تو میں اپنا فلاں عمل پیش کردوں گا۔ میں کہوں گا کہ فلاں اور فلاں بزرگوں کی نسبت مجھے حاصل ہے۔ مگر قیامت کے آتے ہی اس قسم کی خوش خیالیاں اس طرح بے حقیقت ثابت ہوں گی جیسے گرم لوہے پر پانی کا قطرہ پڑے اور فوراً اڑ جائے۔ اس دن صرف حقیقی عمل کسی کے کام آئے گا، نہ کہ کسی قسم کی جھوٹی خوش خیالی۔


Connections

  • Previous: 25_20
  • Next: 25_22
  • Thematic: (add links here)

Tafsir Notes