Recitation (Mishary Rashid Alafasy)

Next 24:7 Prev 24:5


Arabic

وَٱلَّذِينَ يَرۡمُونَ أَزۡوَٰجَهُمۡ وَلَمۡ يَكُن لَّهُمۡ شُهَدَآءُ إِلَّآ أَنفُسُهُمۡ فَشَهَٰدَةُ أَحَدِهِمۡ أَرۡبَعُ شَهَٰدَٰتِۭ بِٱللَّهِ إِنَّهُۥ لَمِنَ ٱلصَّـٰدِقِينَ


Urdu (Syed Abul A’la Maududi)

اور جو لوگ اپنی بیویوں پر الزام لگائیں اور ان کے پاس خود ان کے اپنے سوا دوسرے کوئی گواہ نہ ہوں تو اُن میں سے ایک شخص کی شہادت (یہ ہے کہ وہ) چار مرتبہ اللہ کی قسم کھا کر گواہی دے کہ وہ (اپنے الزام میں) سچا ہے


English (Sahih International)

And those who accuse their wives [of adultery] and have no witnesses except themselves - then the witness of one of them [shall be] four testimonies [swearing] by Allah that indeed, he is of the truthful


Tafsir — Bayan ul Quran (Dr. Israr Ahmad)

آیت 6 وَالَّذِیْنَ یَرْمُوْنَ اَزْوَاجَہُمْ وَلَمْ یَکُنْ لَّہُمْ شُہَدَآءُ اِلَّآ اَنْفُسُہُمْ ”یعنی اگر کوئی شخص اپنی بیوی کو بدکاری کا ارتکاب کرتے ہوئے دیکھ لے اور اس کے پاس اپنے علاوہ موقع کے تین اور گواہ بھی نہ ہوں تو وہ کیا کرے ؟ چونکہ معاملہ اس کی اپنی بیوی کا ہے اس لیے وہ خاموشی اختیار کر کے اس کے ساتھ رہ بھی نہیں سکتا۔ عام حالات میں تو اگر کوئی شخص اپنے علاوہ تین چشم دید گواہوں کے بغیر کسی پر ایسا الزام لگائے تو اسے اسّی 80 کوڑوں کی سزا دی جائے گی ‘ لیکن میاں بیوی کے معاملے میں ایسی صورت حال کے لیے یہاں ایک خصوصی قانون دیا گیا ہے جسے اصطلاح میں ”لعان“ کہا جاتا ہے۔فَشَہَادَۃُ اَحَدِہِمْ اَرْبَعُ شَہٰدٰتٍم باللّٰہِلا اِنَّہٗ لَمِنَ الصّٰدِقِیْنَ ”ایسے شخص سے تقاضا یہ ہے کہ وہ اللہ کی قسم کھا کر چار دفعہ واقعہ کی گواہی دے اور دعویٰ کرے کہ وہ جو کچھ کہہ رہا ہے سچ کہہ رہا ہے۔


Tafsir — Tazkirul Quran (Maulana Wahiduddin Khan)

This commentary covers ayaat 6 to 11.

داعی اگر واقعۃ ً سچائی پر ہے تو اس کے خلاف جھوٹے پروپیگنڈے ہمیشہ اس کے حق میں مفید ثابت ہوتے ہیں کیوں کہ جھو ٹے پروپیگنڈوں کی حقیقت آخر کا رکھل کر رہتی ہے۔ اور جب حقیقت کھلتی ہے تو ایک طرف داعی کا برسر حق ہونا اور زیادہ واضح ہوجاتا ہے اور جو لوگ اس کے بارے میں مذبذب تھے وہ اس کے بعد یقین کے درجہ تک پہنچ جاتے ہیں۔ وہ عملاً دیکھ لیتے ہیں کہ داعیٔ حق کے مخالفین کے پاس جھوٹے الزام اور بے بنیاد اتہام کے سوا اور کچھ نہیں۔

حضرت عائشہ ؓصدیقہ کے خلاف الزام میں سب سے بڑا حصہ لینے والا مشہور منافق عبد اللہ بن ابی تھا۔ اس کے ليے قرآن میں سخت اخروی عذاب کا اعلان کیاگیا۔ مگر دنیا میں اس کو کوئی سزا نہیں دی گئی، یہاں تک کہ وہ اپنی طبعی موت مرگیا۔اس واقعہ کے بعد حضرت عمرؓ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا کہ اس شخص کو قتل کردیا جائے۔ آپ نے فرمایا اے عمرؓ، کیا ہوگا جب لوگ کہیں گے کہ محمدؐ اپنے ساتھیوں کو قتل کرتے ہیں (فَكَيْفَ يَا عُمَرُ إذَا تَحَدَّثَ النَّاسُ أَنَّ مُحَمَّدًا يَقْتُلُ أَصْحَابَهُ) سیرت ابن ہشام، جلد 2، صفحہ

291

۔اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ بعض اوقات حکمت کا تقاضا یہ ہوتا ہے کہ بڑے بڑے مجرمین کو بھی دنیا میں سزا نہ دی جائے بلکہ ان کے معاملہ کو آخرت کے اوپر چھوڑ دیا جائے۔


Connections

  • Previous: 24_5
  • Next: 24_7
  • Thematic: (add links here)

Tafsir Notes