Recitation (Mishary Rashid Alafasy)

Next 24:54 Prev 24:52


Arabic

۞وَأَقۡسَمُواْ بِٱللَّهِ جَهۡدَ أَيۡمَٰنِهِمۡ لَئِنۡ أَمَرۡتَهُمۡ لَيَخۡرُجُنَّۖ قُل لَّا تُقۡسِمُواْۖ طَاعَةٞ مَّعۡرُوفَةٌۚ إِنَّ ٱللَّهَ خَبِيرُۢ بِمَا تَعۡمَلُونَ


Urdu (Syed Abul A’la Maududi)

یہ (منافق) اللہ کے نام سے کڑی کڑی قسمیں کھا کر کہتے ہیں کہ “آپ حکم دیں تو ہم گھروں سے نکل کھڑے ہوں” اِن سے کہو “قسمیں نہ کھاؤ، تمہاری اطاعت کا حال معلوم ہے، تمہارے کرتوتوں سے اللہ بے خبر نہیں ہے


English (Sahih International)

And they swear by Allah their strongest oaths that if you ordered them, they would go forth [in Allah ‘s cause]. Say, “Do not swear. [Such] obedience is known. Indeed, Allah is Acquainted with that which you do


Tafsir — Bayan ul Quran (Dr. Israr Ahmad)

آیت 53 وَاَقْسَمُوْا باللّٰہِ جَہْدَ اَیْمَانِہِمْ لَءِنْ اَمَرْتَہُمْ لَیَخْرُجُنَّ ط ”منافقین سے جب بھی کسی قربانی کا تقاضا کیا جاتا یا جہاد کے لیے نکلنے کا مرحلہ آتا تو وہ بہانے تراشتے ہوئے قسمیں کھاتے کہ ہمیں فلاں مجبوری ہے ‘ فلاں مسئلہ درپیش ہے ‘ لیکن اگر آپ ﷺ حکم دیں گے تو ہم بہرحال آپ ﷺ کے ساتھ ضرور نکلیں گے۔ جماعتی زندگی میں یہ نمونہ آج بھی دیکھنے کو ملتا ہے۔ امیر کی طرف سے ایک واضح حکم آجانے کے بعد بھی کچھ لوگ بہانے بناتے ہیں ‘ اپنی معذوری کا اظہار کرتے ہیں اور مجبوریاں گنوانے کے بعد یوں بھی کہتے ہیں کہ ”ویسے اگر آپ حکم دیں تو ہم حاضر ہیں !“ گویا جو پہلے حکم دیا گیا ہے وہ حکم نہیں ہے ؟ امیر کی بات کو آپ حکم کیوں نہیں سمجھ رہے ؟تو کیا جہاد کے لیے ایک واضح حکم کے بعد منافقین یہ توقع رکھتے ہیں کہ حضور ﷺ ان میں سے ہر ایک کی الگ الگ خوشامد کر کے اسے راضی کریں کہ اجی ! آپ ضرور جہاد کے لیے تشریف لے جائیں !قُلْ لَّا تُقْسِمُوْاج طاعَۃٌ مَّعْرُوْفَۃٌ ط ”جب تم لوگ مجھے اللہ کا رسول تسلیم کرنے اور مجھ پر ایمان لانے کا دعویٰ کرتے ہو تو باقی تمام اہل ایمان کی طرح میری اطاعت اختیار کرو۔ میری طرف سے جو حکم تمہیں دیا جاتا ہے اسے قبول کرو۔


Tafsir — Tazkirul Quran (Maulana Wahiduddin Khan)

This commentary covers ayaat 53 and 54.

جس شخص کے دل میں گہرائی کے ساتھ خدا اترا ہوا ہو اس کی نگاہیں جھک جاتی ہیں۔اس کی زبان بند ہوجاتی ہے۔ اس کا احساسِ ذمہ داری اس سے بڑی بڑی قربانیاں کرادیتاہے۔ مگر زبانی دعدوں کے وقت وہ دیکھنے والے لوگوں کو گونگا نظر آتا ہے۔

اس کے برعکس، جو شخص خدا سے تعلق کے معاملہ میں کم ہو وہ الفاظ کے معاملہ میں زیادہ ہوجاتا ہے۔ وہ اپنے عمل کی کمی کو الفاظ کی زیادتی سے پورا کرتا ہے۔ اس کے پاس چونکہ کردار کی گواہی نہیں ہوتی اس ليے وہ اپنے کو معتبر ثابت کرنے کے ليے بڑے بڑے الفاظ کا مظاہرہ کرتا ہے۔

جو لوگ الفاظ کا کمال دکھا کر دوسروں کو متاثر کرنا چاہتے ہیں وہ سمجھتے ہیں کہ سارا معاملہ بس انسانوں کا معاملہ ہے۔ مگر جس شخص کو یقین ہو کہ اصل معاملہ وہ ہے جو خدا کے یہاں پیش آنے والا ہے۔ اس کا سارا انداز بالکل بدل جائے گا۔


Connections

  • Previous: 24_52
  • Next: 24_54
  • Thematic: (add links here)

Tafsir Notes