Recitation (Mishary Rashid Alafasy)
Arabic
وَيَقُولُونَ ءَامَنَّا بِٱللَّهِ وَبِٱلرَّسُولِ وَأَطَعۡنَا ثُمَّ يَتَوَلَّىٰ فَرِيقٞ مِّنۡهُم مِّنۢ بَعۡدِ ذَٰلِكَۚ وَمَآ أُوْلَـٰٓئِكَ بِٱلۡمُؤۡمِنِينَ
Urdu (Syed Abul A’la Maududi)
یہ لوگ کہتے ہیں کہ ہم ایمان لائے اللہ اور رسولؐ پر اور ہم نے اطاعت قبول کی، مگر اس کے بعد ان میں سے ایک گروہ (اطاعت سے) منہ موڑ جاتا ہے ایسے لوگ ہرگز مومن نہیں ہیں
English (Sahih International)
But the hypocrites say, “We have believed in Allah and in the Messenger, and we obey”; then a party of them turns away after that. And those are not believers
Tafsir — Bayan ul Quran (Dr. Israr Ahmad)
ثُمَّ یَتَوَلّٰی فَرِیْقٌ مِّنْہُمْ مِّنْم بَعْدِ ذٰلِکَ ط ”یہ لوگ اللہ اور اس کے رسول ﷺ پر ایمان کا اقرار بھی کرتے ہیں ‘ اطاعت کا دم بھی بھرتے ہیں لیکن اس کے بعد ان کا طرز عمل کچھ اور ہوتا ہے۔
Tafsir — Tazkirul Quran (Maulana Wahiduddin Khan)
This commentary covers ayaat 47 to 50.
قدیم مدینہ میںایک طبقہ وہ تھا جس نے بظاہر اسلام قبول کرلیا تھا مگر وہ اسلام کے معاملہ میں مخلص نہ تھا۔ اس گروہ کو منافق کہاجاتا ہے۔ یہ لوگ زبان سے تو خدا ورسول کی اطاعت کے الفاظ بولتے تھے مگر جب تجربہ پیش آتا تو وہ خود اپنے عمل سے اپنے اس دعوے کی تردید کردیتے۔
اس وقت صورت حال یہ تھی کہ مدینہ میں باقاعدہ نوعیت کی اسلامی عدالت ابھی قائم نہیں ہوئی تھی۔ وہاں ایک طرف یہودی سردار تھے جو سیکڑوں سال سے رواجی طورپر لوگوں کے فیصلے کرتے چلے آرہے تھے۔ دوسری طرف رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مکہ سے ہجرت کرکے وہاں پہنچ چکے تھے۔ منافقین کا حال یہ تھا کہ اگر کسی مسلمان سے ان کی نزاع ہو جائے اور وہ کہے کہ چلو رسول اللہ کے یہاں اس کا فیصلہ کرالو تو مذکورہ منافق اس کے ليے صرف اس صورت میں راضی ہوتا تھا، جب کہ اس کو یقین ہوتا کہ مقدمے کی نوعیت ایسی ہے کہ فیصلہ اس کے اپنے حق میں ہوجائے گا۔ اگر معاملہ اس کے برعکس ہوتا تو وہ کہتا کہ فلاں یہودی سردار کے یہاں چلو اور اس سے فیصلہ کرالو۔
یہ بظاہر ہوشیاری ہے مگر یہ خود اپنے اوپر ظلم کرنا ہے۔ اس طرح جیتنے والے آخرت میں اس حال میں پہنچیں گے کہ وہ اپنا مقدمہ بالکل ہارچکے ہوں گے۔