Recitation (Mishary Rashid Alafasy)
Arabic
وَٱللَّهُ خَلَقَ كُلَّ دَآبَّةٖ مِّن مَّآءٖۖ فَمِنۡهُم مَّن يَمۡشِي عَلَىٰ بَطۡنِهِۦ وَمِنۡهُم مَّن يَمۡشِي عَلَىٰ رِجۡلَيۡنِ وَمِنۡهُم مَّن يَمۡشِي عَلَىٰٓ أَرۡبَعٖۚ يَخۡلُقُ ٱللَّهُ مَا يَشَآءُۚ إِنَّ ٱللَّهَ عَلَىٰ كُلِّ شَيۡءٖ قَدِيرٞ
Urdu (Syed Abul A’la Maududi)
اور اللہ نے ہر جاندار ایک طرح کے پانی سے پیدا کیا، کوئی پیٹ کے بل چل رہا ہے تو کوئی دو ٹانگوں پر اور کوئی چار ٹانگوں پر جو کچھ وہ چاہتا ہے پیدا کرتا ہے، وہ ہر چیز پر قادر ہے
English (Sahih International)
Allah has created every [living] creature from water. And of them are those that move on their bellies, and of them are those that walk on two legs, and of them are those that walk on four. Allah creates what He wills. Indeed, Allah is over all things competent
Tafsir — Bayan ul Quran (Dr. Israr Ahmad)
This commentary covers ayaat 45 and 46.
آیت 45 وَاللّٰہُ خَلَقَ کُلَّ دَآبَّۃٍ مِّنْ مَّآءٍج فَمِنْہُمْ مَّنْ یَّمْشِیْ عَلٰی بَطْنِہٖ ج ”یہ وہ جاندار ہیں جنہیں ہم reptiles کہتے ہیں۔ ان کی ٹانگیں وغیرہ نہیں ہوتیں اور وہ پیٹ کے بل رینگتے ہیں۔وَمِنْہُمْ مَّنْ یَّمْشِیْ عَلٰی رِجْلَیْنِ ج ”خود ہم انسان بھی اسی مخلوق میں شامل ہیں۔ انسانوں کے علاوہ پرندے ‘ بن مانس champanzies اور گوریلے بھی دو ٹانگوں پر چلتے ہیں۔ کوئی اور مخلوق بھی ایسی ہوسکتی ہے جو دو ٹانگوں پر چلتی ہو۔وَمِنْہُمْ مَّنْ یَّمْشِیْ عَلٰٓی اَرْبَعٍ ط ”زمینی حیوانات میں سے چار ٹانگوں والوں کی تعداد سب سے زیادہ ہے۔یَخْلُقُ اللّٰہُ مَا یَشَآءُط اِنَّ اللّٰہَ عَلٰی کُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ ”آئندہ آیات میں منافقین کا ذکر ہونے جا رہا ہے۔ اس سے پہلے سورة یونس سے لے کر سورة المؤمنون تک چودہ سورتیں مسلسل مکیات تھیں۔ مکہ میں منافقین تو تھے نہیں لہٰذا ان تمام مکی سورتوں میں نہ تو نفاق کا ذکر آیا اور نہ ہی منافقین کا تذکرہ ہوا۔ ان مکی سورتوں میں گفتگو کا رخ زیادہ تر مشرکین مکہ کی طرف ہی رہا ہے۔ کہیں کہیں اہل کتاب کا ذکر بھی آیا ہے ‘ لیکن انہیں براہ راست مخاطب نہیں کیا گیا۔ اس کے علاوہ ان سورتوں میں حضور ﷺ کو اور آپ ﷺ کی وساطت سے اہل ایمان کو بھی مخاطب کیا جاتا رہا ہے۔ سورة النور کا نزول مدنی دور کے عین وسط یعنی 6 ہجری میں ہوا تھا اور اس وقت مدینہ کے اندر اچھی خاصی تعداد میں منافقین موجود تھے۔ یہی وجہ ہے کہ ان کے کردار کا تذکرہ اس سورت میں آیا ہے۔
Tafsir — Tazkirul Quran (Maulana Wahiduddin Khan)
This commentary covers ayaat 45 and 46.
دنیا کی چیزوں میں بظاہر تعدد ہے۔ اس سے مشرک انسان نے یہ قیاس کیا کہ چیزوں کے خالق بھی متعدد ہیں۔ مگر جب چیزوں کو اس پہلو سے دیکھا جائے کہ ظاہری تعداد اور تنوع کے اندر ایک یکسانیت چھپی ہوئی ہے تو معاملہ بالکل بدل جاتا ہے۔
حیوانات کی لاکھوں قسمیں ہیں۔ مگر گہرا مطالعہ بتاتاہے کہ ان سب کی اصل ایک ہے۔ تمام حیوانات کا حیاتیاتی نظام بالکل یکساں ہے۔ اس مطالعہ کے بعد چیزوں کا تعدد اور تنوع خالق کی قدرت کا کرشمہ بن جاتا ہے۔ ایک اعتبار سے جو چیز تعددِ تخلیق کا اظہار معلوم ہورہی تھی وہ دوسرے اعتبار سے توحید تخلیق کا ثبوت بن جاتی ہے۔
موجودہ دنیا ایک ایسی دنیا ہے جہاں فریب کے درمیان حقیقت کو پانا پڑتا ہے۔ یہاں اپنے آپ کو دھوکا دینے والی باتوں سے اوپر اٹھانا پڑتا ہے۔ تاکہ آدمی حق کا مشاہدہ کرسکے۔ اسی خاص کام کے ليے اللہ تعالیٰ نے آدمی کو عقل کی صلاحیت دی ہے۔ جو شخص اس خدائی ٹارچ کو صحیح طورپر استعمال کرے گا وہ راستہ پالے گا۔ اور جو شخص اس کو استعمال نہیں کرے گا اس کے ليے اس دنیا میں بھٹکنے کے سوا کوئی اور انجام مقدر نہیں۔