Recitation (Mishary Rashid Alafasy)
Arabic
أَلَمۡ تَرَ أَنَّ ٱللَّهَ يُزۡجِي سَحَابٗا ثُمَّ يُؤَلِّفُ بَيۡنَهُۥ ثُمَّ يَجۡعَلُهُۥ رُكَامٗا فَتَرَى ٱلۡوَدۡقَ يَخۡرُجُ مِنۡ خِلَٰلِهِۦ وَيُنَزِّلُ مِنَ ٱلسَّمَآءِ مِن جِبَالٖ فِيهَا مِنۢ بَرَدٖ فَيُصِيبُ بِهِۦ مَن يَشَآءُ وَيَصۡرِفُهُۥ عَن مَّن يَشَآءُۖ يَكَادُ سَنَا بَرۡقِهِۦ يَذۡهَبُ بِٱلۡأَبۡصَٰرِ
Urdu (Syed Abul A’la Maududi)
کیا تم دیکھتے نہیں ہو کہ اللہ بادل کو آہستہ آہستہ چلاتا ہے، پھر اس کے ٹکڑوں کو باہم جوڑتا ہے، پھر اسے سمیٹ کر ایک کثیف ابر بنا دیتا ہے، پھر تم دیکھتے ہو کہ اس کے خول میں سے بارش کے قطرے ٹپکتے چلے آتے ہیں اور وہ آسمان سے، اُن پہاڑوں کی بدولت جو اس میں بلند ہیں، اولے برساتا ہے، پھر جسے چاہتا ہے ان کا نقصان پہنچاتا ہے اور جسے چاہتا ہے ان سے بچا لیتا ہے اُس کی بجلی کی چمک نگاہوں کو خیرہ کیے دیتی ہے
English (Sahih International)
Do you not see that Allah drives clouds? Then He brings them together, then He makes them into a mass, and you see the rain emerge from within it. And He sends down from the sky, mountains [of clouds] within which is hail, and He strikes with it whom He wills and averts it from whom He wills. The flash of its lightening almost takes away the eyesight
Tafsir — Bayan ul Quran (Dr. Israr Ahmad)
This commentary covers ayaat 43 and 44.
آیت 43 اَلَمْ تَرَ اَنَّ اللّٰہَ یُزْجِیْ سَحَابًا ”سمندر کے بخارات سے بادل بنتے ہیں اور ہواؤں کے دوش پر ہزاروں میل کا سفر طے کر کے کہیں کے کہیں پہنچ جاتے ہیں۔ثُمَّ یُؤَلِّفُ بَیْنَہٗ ثُمَّ یَجْعَلُہٗ رُکَامًا ”جن لوگوں کو ہوائی سفر کا تجربہ ہے انہوں نے بادل کے تہ بر تہ ہونے کا منظر اپنی آنکھوں سے دیکھا ہوگا۔ ابر آلود موسم میں بعض اوقات یوں بھی ہوتا ہے کہ بادلوں کی ایک تہ میں سے جہاز اوپر چڑھتا ہے اور اس کے بعد فضا صاف ہوتی ہے۔ پھر اوپر جا کر بادلوں کی ایک اور تہ ہوتی ہے۔ اس طرح متعدد تہیں ہوسکتی ہیں۔وَیُنَزِّلُ مِنَ السَّمَآءِ مِنْ جِبَالٍ فِیْہَا مِنْم بَرَدٍ ”جب زمین پر اولے پوری شدت سے برس رہے ہوں تو یوں معلوم ہوتا ہے جیسے آسمانوں میں اولوں کے پہاڑ ہیں۔فَیُصِیْبُ بِہٖ مَنْ یَّشَآءُ وَیَصْرِفُہٗ عَنْ مَّنْ یَّشَآءُ ط ”جب کسی کھیتی کو کسی وجہ سے برباد کرنا مقصود تو اس پر اللہ کی مشیت سے یہ اولے برس پڑتے ہیں اور جس کھیتی کو وہ تباہ کرنا نہیں چاہتا اس کی طرف سے ان کا رخ پھیر دیتا ہے۔ بعض اوقات دیکھنے میں آتا ہے کہ ایک کھیت اولوں سے تباہ ہوگیا ‘ لیکن اس کے ساتھ ہی دوسرا کھیت بالکل سلامت رہا۔
Tafsir — Tazkirul Quran (Maulana Wahiduddin Khan)
This commentary covers ayaat 43 and 44.
مکہ کے لوگ اس زمانہ میں عرب کے قائد سمجھے جاتے تھے۔ یہ قیادت ان کے ليے خدا کی ایک نعمت تھی۔ مگر اس سے انھوں نے کبر کی غذا لی۔ چنانچہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان سے حق کا اعلان ہوا تو انھوںنے اپنی متکبرانہ نفسیات کی بنا پر اس کا انکار کردیا۔
یہ مکہ میں اسلام کا حال تھا۔ مگر باہر کي عوام جو اس قسم کی نفسیاتی پیچیدگیوں میں مبتلا نہ تھي ان کے اندر اسلام کی صداقت پھیلتی جارہی تھی۔ مکہ میں اسلام کو رد کردیا گیا تھا مگر باہر کے قبائل میں اسلام کو اختیار کیا جارہا تھا۔ مدینہ کے باشندوں کے بڑے پیمانے پر قبولِ اسلام نے یہ بات آخری طورپر واضح کردی کہ مکہ كے لوگوں کی قیادت کا دائرہ سمٹتا جارہا ہے۔ یہ ایک کھلی ہوئی تنبیہ تھی۔ مگر جو لوگ بڑائی کی نفسیات میں مبتلا ہوں وہ کسی بھی تنبیہ سے سبق لینے والے نہیں بنتے۔