Recitation (Mishary Rashid Alafasy)
Arabic
أَلَمۡ تَرَ أَنَّ ٱللَّهَ يُسَبِّحُ لَهُۥ مَن فِي ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلۡأَرۡضِ وَٱلطَّيۡرُ صَـٰٓفَّـٰتٖۖ كُلّٞ قَدۡ عَلِمَ صَلَاتَهُۥ وَتَسۡبِيحَهُۥۗ وَٱللَّهُ عَلِيمُۢ بِمَا يَفۡعَلُونَ
Urdu (Syed Abul A’la Maududi)
کیا تم دیکھتے نہیں ہو کہ اللہ کی تسبیح کر رہے ہیں وہ سب جو آسمانوں اور زمین میں ہیں اور وہ پرندے جو پر پھیلا ئے اڑ رہے ہیں؟ ہر ایک اپنی نماز اور تسبیح کا طریقہ جانتا ہے، اور یہ سب جو کچھ کرتے ہیں اللہ اس سے باخبر رہتا ہے
English (Sahih International)
Do you not see that Allah is exalted by whomever is within the heavens and the earth and [by] the birds with wings spread [in flight]? Each [of them] has known his [means of] prayer and exalting [Him], and Allah is Knowing of what they do
Tafsir — Bayan ul Quran (Dr. Israr Ahmad)
This commentary covers ayaat 41 and 42.
آیت 41 اَلَمْ تَرَ اَنَّ اللّٰہَ یُسَبِّحُ لَہٗ مَنْ فِی السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ ”نہ صرف آسمانوں اور زمین کی تمام مخلوقات اللہ کی تسبیح کرتی ہیں بلکہ ان دونوں آسمان و زمین کے مابین جو مخلوق ہے وہ بھی اس میں شامل ہیں۔وَالطَّیْرُ صٰٓفّٰتٍط کُلٌّ قَدْ عَلِمَ صَلَا تَہٗ وَتَسْبِیْحَہٗ ط ”یہی مضمون سورة بنی اسرائیل کی آیت 44 میں اس طرح آیا ہے : وَاِنْ مِّنْ شَیْءٍ الاَّ یُسَبِّحُ بِحَمْدِہٖ وَلٰکِنْ لاَّ تَفْقَہُوْنَ تَسْبِیْحَہُمْ ط کہ کوئی چیز اس کائنات میں ایسی نہیں ہے جو اللہ کی تسبیح وتحمید نہ کر رہی ہو ‘ لیکن تم لوگوں کو ان کے طریقہ تسبیح کا شعور نہیں ہوسکتا۔
Tafsir — Tazkirul Quran (Maulana Wahiduddin Khan)
This commentary covers ayaat 41 and 42.
انسان سے خدا کا جو مطالبہ ہے اس کو لفظ بدل کر کہیں تو وہ یہ ہے کہ انسان ویسا ہی رہے جیسا کہ از روئے حقیقت اسے رہنا چاہيے۔ یہی دین حق ہے۔ اس اعتبار سے ساری کائنات دین حق پر ہے۔ کیوں کہ اس کائنات کی ہر چیز عین اسی طرح عمل کرتی ہے جیسا کہ فی الواقع اسے عمل کرنا چاہيے۔ انسان کے سوا اس کائنات میں کوئی بھی چیزنہیں جس کے عمل میں اور حقیقت واقعہ میں کوئی ٹکراؤ ہو۔
انھیں بے شمار چیزوں میں سے ایک مثال چڑیا کی ہے۔ چڑیا جب اپناپر پھیلائے ہوئے فضا میں اڑتی ہے تو وہ اسی حقیقت کا ایک کامل نمونہ ہوتی ہے۔ ایسا معلوم ہوتا ہے گویا وہ ابدی حقیقت کی دنیا میں کامل موافقت کرکے تیر رہی ہو۔ گویا اس نے اپنے انفرادی وجود کو حقائق کے وسیع تر سمندر میں گم کردیا ہو۔
ہر ایک کی ایک تسبیح ِخداوندی ہے اور وہی اس سے مطلوب ہے۔ اسی طرح انسان کی ایک تسبیح ِخداوندی ہے اور وہ اس سے مطلوب ہے۔ انسان اگر اس معاملہ میں غفلت یا سرکشی کا رویہ اختیار کرے تو اس وقت اس کو اس کی سخت قیمت ادا کرنی ہوگی جب خدا کے ساتھ اس کا سامنا پیش آئے گا۔