Recitation (Mishary Rashid Alafasy)

Next 24:5 Prev 24:3


Arabic

وَٱلَّذِينَ يَرۡمُونَ ٱلۡمُحۡصَنَٰتِ ثُمَّ لَمۡ يَأۡتُواْ بِأَرۡبَعَةِ شُهَدَآءَ فَٱجۡلِدُوهُمۡ ثَمَٰنِينَ جَلۡدَةٗ وَلَا تَقۡبَلُواْ لَهُمۡ شَهَٰدَةً أَبَدٗاۚ وَأُوْلَـٰٓئِكَ هُمُ ٱلۡفَٰسِقُونَ


Urdu (Syed Abul A’la Maududi)

اور جو لوگ پاک دامن عورتوں پر تہمت لگائیں، پھر چار گواہ لے کر نہ آئیں، ان کو اسی کوڑے مارو اور ان کی شہادت کبھی قبول نہ کرو، اور وہ خود ہی فاسق ہیں


English (Sahih International)

And those who accuse chaste women and then do not produce four witnesses - lash them with eighty lashes and do not accept from them testimony ever after. And those are the defiantly disobedient


Tafsir — Bayan ul Quran (Dr. Israr Ahmad)

آیت 4 وَالَّذِیْنَ یَرْمُوْنَ الْمُحْصَنٰتِ ””محصنات“ ُ سے مراد خاندانی عورتیں بھی ہیں اور منکوحہ عورتیں بھی۔ گویا عورتوں کے حق میں احصان حفاظت کا حصار کی دو صورتیں ہیں۔ جو عورتیں کسی معزز اور شریف خاندان سے تعلق رکھتی ہیں وہ اپنے اس خاندان کی حفاظت کے حصار میں ہیں اور جو کسی کے نکاح کی قید میں ہیں انہیں اپنے خاوند اور نکاح کے اس تعلق کی حفاظت حاصل ہے۔ اس طرح خاندانی منکوحہ خا تون کو دوہرا ”اِحصان“ حاصل ہوتا ہے۔ چناچہ اگر کوئی شخص کسی پاکدامن خاندانی یا منکوحہ عورت پر زنا کا الزام لگائے اور :وَّلَا تَقْبَلُوْا لَہُمْ شَہَادَۃً اَبَدًاج وَاُولٰٓءِکَ ہُمُ الْفٰسِقُوْنَ ”اگر کوئی شخص کسی پاکدامن خاتون پر بدکاری کا الزام لگائے تو اس پر لازم ہے کہ وہ چار چشم دیدگواہ پیش کرے۔ اگر وہ اس میں ناکام رہتا ہے تو اس کے اس الزام کو بہتان تصور کیا جائے گا ‘ اور زنا کے بہتان کی سزا کے طور پر اسے اسّی 80 کوڑے لگائے جائیں گے۔ شریعت میں اسے ”حد قذف“ کہا جاتا ہے۔دیکھا جائے تو یہ سزا زنا کی سزا سو کوڑے کے قریب ہی پہنچ جاتی ہے۔ اس میں بظاہر یہ حکمت نظر آتی ہے کہ خواہ مخواہ برائی کی تشہیر نہ ہو۔ دراصل برائی کا چرچا بھی معاشرے کے لیے برائی ہی کی طرح زہر ناک ہے اور شریعت کا مقصود اس زہرناکی کا سدباب کرنا ہے۔ اس سلسلے میں شریعت کا تقاضا یہ ہے کہ اگر کہیں ایسی غلطی کا ارتکاب ہو تو قصور وار افراد کو قانون کے مطابق سخت سزا دی جائے۔ لیکن اگر کسی قانونی سقم کی وجہ سے یا گواہوں کی عدم دستیابی کے باعث جرم ثابت نہ ہوسکتا ہو اور مجرم کو کیفر کردار تک پہنچانا ممکن نہ ہو تو پھر بہتر ہے کہ اس سلسلے میں خاموشی اختیار کی جائے اور برائی کی تشہیر کر کے معاشرے کی فضا میں ہیجانی کیفیت پیدا کرنے سے اجتناب کیا جائے۔


Tafsir — Tazkirul Quran (Maulana Wahiduddin Khan)

This commentary covers ayaat 4 and 5.

زنا کو شدید جرم قرار دینے کا فطری تقاضا یہ ہے کہ کسی غیر زانی پر زنا کا الزام لگانا بھی شدید جرم ہو۔ چنانچہ یہ حکم دیاگیا کہ جو شخص کسی پر زنا کا الزام لگائے اور پھر اس کو شرعی قاعدہ کے مطابق ثابت نہ کرسکے، اس کو اَسّی کوڑے مارے جائیں۔ مزید یہ کہ ایسے شخص کو ہمیشہ کے ليے مردود الشہادت قرار دے دیا جائے۔ حتی کہ احناف کے نزدیک توبہ کے بعد بھی اس کی گواہی معاملات میں قبول نہیں کی جائے گی۔

کسی شخص پر جھوٹا الزام لگانااس کو اخلاقی طورپر قتل کرنے کی کوشش ہے۔ ایسے جرم پر اسلام میں سخت سزائیں مقرر کی گئی ہیں۔ اور اگر کوئی شخص دنیا میں سزا پانے سے بچ جائے تب بھی وہ آخرت کی سزا سے بہر حال نہیں بچ سکتا۔ إلاّ یہ کہ وہ توبہ کرے اور اللہ سے معافی کا طلب گار ہو۔


Connections

  • Previous: 24_3
  • Next: 24_5
  • Thematic: (add links here)

Tafsir Notes