Recitation (Mishary Rashid Alafasy)

Next 24:40 Prev 24:38


Arabic

وَٱلَّذِينَ كَفَرُوٓاْ أَعۡمَٰلُهُمۡ كَسَرَابِۭ بِقِيعَةٖ يَحۡسَبُهُ ٱلظَّمۡـَٔانُ مَآءً حَتَّىٰٓ إِذَا جَآءَهُۥ لَمۡ يَجِدۡهُ شَيۡـٔٗا وَوَجَدَ ٱللَّهَ عِندَهُۥ فَوَفَّىٰهُ حِسَابَهُۥۗ وَٱللَّهُ سَرِيعُ ٱلۡحِسَابِ


Urdu (Syed Abul A’la Maududi)

(اس کے برعکس) جنہوں نے کفر کیا ان کے اعمال کی مثال ایسی ہے جیسے دشت بے آب میں سراب کہ پیاسا اُس کو پانی سمجھے ہوئے تھا، مگر جب وہاں پہنچا تو کچھ نہ پایا، بلکہ وہاں اس نے اللہ کو موجود پایا، جس نے اس کا پورا پورا حساب چکا دیا، اور اللہ کو حساب لیتے دیر نہیں لگتی


English (Sahih International)

But those who disbelieved - their deeds are like a mirage in a lowland which a thirsty one thinks is water until, when he comes to it, he finds it is nothing but finds Allah before Him, and He will pay him in full his due; and Allah is swift in account


Tafsir — Bayan ul Quran (Dr. Israr Ahmad)

وَاللّٰہُ سَرِیْعُ الْحِسَابِ ”یعنی اگر کسی شخص کا دل حقیقی ایمان سے محروم ہے تو خدمت خلق کے میدان میں اس کے کارناموں اور دوسرے نیک کاموں کی اللہ کے نزدیک کوئی وقعت نہیں۔ ایسی نیکیاں تو گویا سراب دھوکہ ہیں۔ جیسے صحرا میں ایک پیاسا شخص سراب چمکتی ہوئی ریت کو پانی سمجھتا ہے اسی طرح یہ لوگ بھی اپنے اعمال کو نیکیوں کا ڈھیرسمجھتے ہیں ‘ لیکن روز حساب ان پر اچانک یہ حقیقت کھلے گی کہ ان کا کوئی عمل بھی اللہ کے ہاں شرف قبولیت نہیں پاسکا۔ سورة ابراہیم کی آیت 18 میں ایسے لوگوں کے اعمال کو راکھ کے اس ڈھیر سے تشبیہہ دی گئی ہے جو تیز آندھی کی زد میں ہو۔ اس سلسلے کی دوسری مثال ان لوگوں کے بارے میں ہے جن کی زندگیاں ایسی جھوٹ موٹ کی نیکیوں سے بھی خالی ہیں اور ان کے باطن سرا سر شہوات نفس اور دنیا پرستی کی گندگی سے بھرے پڑے ہیں :


Tafsir — Tazkirul Quran (Maulana Wahiduddin Khan)

This commentary covers ayaat 39 and 40.

انسانوں کی ایک قسم وہ ہے جس کا ذکر آیت

35

میں تھا۔ یہ وہ انسان ہے جو اپنی فطری استعداد کو زندہ رکھتا ہے اور اس کے نتیجے میں ایمان کی دولت سے سرفراز ہوتا ہے۔ اب آیت

39-40

میںانسانوں کی مزید دو قسموں کا ذکر ہے۔ یہ وہ لوگ ہیں جن کا تیل دعوتِ حق کی آگ سے بھڑکنے کے ليے تیار نہیں ہوتا۔

ایک قسم وہ ہے جو کسی خود ساختہ دین پر قائم رہتی ہے۔ وہ جھوٹی تمناؤں کا ایک محل بناکر اس میں خوش رہتی ہے۔ یہ لوگ اسی طرح خوش گمانیوں میں پڑے رہتے ہیں۔ یہاں تک کہ جب موت آتی ہے تو ان کی خوش گمانیوں کا طلسم ٹوٹ جاتا ہے۔ اور پھر اچانک انھیں معلوم ہوتا ہے کہ جس چیز کو وہ منزل سمجھے ہوئے تھے وہ ہلاکت کے گڑھے کے سوا اور کچھ نہ تھی۔

دوسری قسم وہ ہے جو کھلم کھلا منکروں اور باغیوں کی ہے۔ یہ لوگ خدا کی ہدایت کو چھوڑ کر بطور خود ہدایت وضع کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ مگر وہ سراسر ناکام رہتے ہیں۔ کیوں کہ اس دنیا میں ہدایت دینے والا خدا کے سوا اور کوئی نہیں۔ خدا کو چھوڑنے کے بعد آدمی کے حصہ میں اس کے سوا کچھ نہیں رہتا کہ وہ ابدی طورپر اندھیرے میں بھٹکتا رہے۔


Connections

  • Previous: 24_38
  • Next: 24_40
  • Thematic: (add links here)

Tafsir Notes