Recitation (Mishary Rashid Alafasy)
Arabic
ٱلۡخَبِيثَٰتُ لِلۡخَبِيثِينَ وَٱلۡخَبِيثُونَ لِلۡخَبِيثَٰتِۖ وَٱلطَّيِّبَٰتُ لِلطَّيِّبِينَ وَٱلطَّيِّبُونَ لِلطَّيِّبَٰتِۚ أُوْلَـٰٓئِكَ مُبَرَّءُونَ مِمَّا يَقُولُونَۖ لَهُم مَّغۡفِرَةٞ وَرِزۡقٞ كَرِيمٞ
Urdu (Syed Abul A’la Maududi)
خبیث عورتیں خبیث مردوں کے لیے ہیں اور خبیث مرد خبیث عورتوں کے لیے پاکیزہ عورتیں پاکیزہ مردوں کے لیے ہیں اور پاکیزہ مرد پاکیزہ عورتوں کے لیے ان کا دامن پاک ہے اُن باتوں سے جو بنانے والے بناتے ہیں، ان کے لیے مغفرت ہے اور رزق کریم
English (Sahih International)
Evil words are for evil men, and evil men are [subjected] to evil words. And good words are for good men, and good men are [an object] of good words. Those [good people] are declared innocent of what the slanderers say. For them is forgiveness and noble provision
Tafsir — Bayan ul Quran (Dr. Israr Ahmad)
لَہُمْ مَّغْفِرَۃٌ وَّرِزْقٌ کَرِیْمٌ ”یہ ایک اصولی بات فرمائی گئی کہ ناپاک اور بدکردار مردو زن ایک دوسرے کے لیے کشش رکھتے ہیں اور پاک باز مرد و زن ایک دوسرے سے طبعی مناسبت رکھتے ہیں۔ اس کی نوعیت بھی درحقیقت ایک اخلاقی تعلیم کی ہے ‘ جیسا کہ قبل ازیں آیت 3 میں بھی اخلاقی تعلیم دی گئی تھی کہ زانی مرد صرف زانیہ یا مشرکہ سے ہی نکاح کرے اور اسی طرح ایک زانیہ بھی صرف کسی زانی اور مشرک سے ہی نکاح کرے۔ دراصل ان ہدایات سے مراد اور مدعایہ ہے کہ اسلامی معاشرے کا مجموعی مزاج اس قدر پاکیزہ ہو ‘ اس کی اخلاقی حس اتنی جاندار ہو اور اس کی اخلاقی اقدار اس حد تک استوار ہوں کہ کسی بھی غلط کار فرد کے لیے ‘ چاہے وہ مرد ہو یا عورت ‘ مسلم معاشرے میں کوئی جگہ نہ ہو۔ ایسا فرد خود اپنی نظروں میں ذلیل ہو کر معاشرے سے مکمل طور کٹ کر رہ جائے۔
Tafsir — Tazkirul Quran (Maulana Wahiduddin Khan)
خبیثات سے مراد خبیث کلمات ہیں اور اسی طرح طیبات سے مراد طیب کلمات۔مطلب یہ ہے کہ محض کسی کے برا کہنے سے کوئی شخص برا نہیں ہوجاتا۔ آدمی خود جیسا ہو ویسی ہی بات اس کے اوپر چسپاں ہوتی ہے۔ برے لوگ اچھے لوگوں کے بارے میں بری بات کہیں تو ایسی بات آخرکار خود کہنے والے پر پڑتی ہے اور اچھے لوگ اس سے پوری طرح بری الذمہ ہوجاتے ہیں۔
جو لوگ اپنی ذات میںاچھے ہوں وہ دنیا میں بھی جھوٹے الزامات سے بری ہو کر رہتے ہیں۔ اور آخرت میں تو ان کا بری ہونا بالکل یقینی ہے۔ آخرت میں انھیں مزید اضافہ کے ساتھ خدا کے انعامات ملیںگے۔ کیوں کہ ان کے خلاف ناحق باتیں دراصل اس بات کی قیمت تھیں کہ انھوںنے اپنے آپ کو ناحق سے کاٹا اور اپنے آپ کو پوری طرح حق کے ساتھ وابستہ کیا۔