Recitation (Mishary Rashid Alafasy)

Next 24:13 Prev 24:11


Arabic

لَّوۡلَآ إِذۡ سَمِعۡتُمُوهُ ظَنَّ ٱلۡمُؤۡمِنُونَ وَٱلۡمُؤۡمِنَٰتُ بِأَنفُسِهِمۡ خَيۡرٗا وَقَالُواْ هَٰذَآ إِفۡكٞ مُّبِينٞ


Urdu (Syed Abul A’la Maududi)

جس وقت تم لوگوں نے اسے سنا تھا اُسی وقت کیوں نہ مومن مردوں اور مومن عورتوں نے اپنے آپ سے نیک گمان کیا اور کیوں نہ کہہ دیا کہ یہ صریح بہتان ہے؟


English (Sahih International)

Why, when you heard it, did not the believing men and believing women think good of one another and say, “This is an obvious falsehood


Tafsir — Bayan ul Quran (Dr. Israr Ahmad)

The commentary on this ayah is given with ayah 24:11.


Tafsir — Tazkirul Quran (Maulana Wahiduddin Khan)

This commentary covers ayaat 12 and 13.

ایک مسلمان پر دوسرے مسلمان کا یہ حق ہے کہ وہ اس کے بارے میں ہمیشہ نیک گمان کرے۔ دوسرے کے بارے میں بدگمانی کرنا خود اپنے بد نفسی کا ثبوت ہے۔ اور دوسرے کے بارے میں نیک گمان کرنااپنی نیک نفسی کا ثبوت۔

صحیح طریقہ یہ ہے کہ جب بھی کوئی شخص کسی کے بارے میں بری خبر دے تو فوراً اس سے ثبوت کا مطالبہ کیا جائے۔ جو شخص سنے وہ محض سن کر اس کو دہرانے نہ لگے بلکہ وہ خبر دینے والے سے کہے کہ اگر تم سچے ہو تو شریعت کے مطابق گواہ لے آؤ۔ اگر وہ گواہ لے آئے تو اس کی بات قابلِ لحاظ ہوسکتی ہے۔ اور اگر وہ اپنی بات کے حق میں گواہ نہ لائے تو وہ خود سب سے بڑا مجرم ہے۔ کیوں کہ کسی شخص کو بھی یہ حق نہیں ہے کہ وہ بلا ثبوت کسی کے اوپر عیب لگانے لگے۔


Connections

  • Previous: 24_11
  • Next: 24_13
  • Thematic: (add links here)

Tafsir Notes