Recitation (Mishary Rashid Alafasy)

Next 24:2


Arabic

بِسۡمِ ٱللَّهِ ٱلرَّحۡمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ

سُورَةٌ أَنزَلۡنَٰهَا وَفَرَضۡنَٰهَا وَأَنزَلۡنَا فِيهَآ ءَايَٰتِۭ بَيِّنَٰتٖ لَّعَلَّكُمۡ تَذَكَّرُونَ


Urdu (Syed Abul A’la Maududi)

یہ ایک سورت ہے جس کو ہم نے نازل کیا ہے، اور اسے ہم نے فرض کیا ہے، اور اس میں ہم نے صاف صاف ہدایات نازل کی ہیں، شاید کہ تم سبق لو


English (Sahih International)

[This is] a surah which We have sent down and made [that within it] obligatory and revealed therein verses of clear evidence that you might remember


Tafsir — Bayan ul Quran (Dr. Israr Ahmad)

آیت 1 سُوْرَۃٌ اَنْزَلْنٰہَا وَفَرَضْنٰہَا ”سورت کے آغاز کا یہ انداز تمام سورتوں میں منفرد ہے۔ ”سُوْرَۃٌ“ کا لفظ یہاں پر بطور اسم نکرہ استعمال ہوا ہے۔ اس کو اگر تفخیم کے لیے مانا جائے تو اس کے معنی یوں ہوں گے کہ یہ ایک عظیم سورت ہے۔


Tafsir — Tazkirul Quran (Maulana Wahiduddin Khan)

This commentary covers ayaat 1 to 3.

سورہ نور غزوۂ بنی المصطلق کے بعد 6ہجری میں نازل ہوئی۔ اس غزوہ میں ایک معمولی واقعہ پیش آیا۔ اس کو شوشہ بنا کر مدینہ کے منافقین نے حضرت عائشہ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بدنام کرنا شروع کیا۔ اس سورہ میں ایک طرف حضرت عائشہ کی کامل برأت کردی گئی اور دوسری وہ خاص احکام دئے گئے جو معاشرہ میں اس قسم کی صورت حال پیش آنے کے بعد نافذکيے جانے چاہئیں۔

اسلامی قانون میں زنا بے حد سنگین جرم ہے۔ تاہم اسلامی قانون دو قسم کے انسانوں میں فرق کرتاہے۔ ایک وہ جس کے ليے جائز صنفی تعلق کے مواقع موجود ہوں اس کے باوجود وہ ناجائز صنفی تعلق قائم کرے۔ دوسرا وہ جس کو ابھی جائز صنفی تعلق کے مواقع حاصل نہ ہوئے ہوں۔

’’زانی اور زانیہ کو سو کوڑے مارو‘‘— قرآن میں کچھ ایسے قانونی احکام ہیں جو حکومتی معاملات سے تعلق رکھتے ہیں۔ مثلاً چوری، زنا، شراب خوری، قذَف، قتل، وغیرہ۔ مگر اس قسم کے احکام بہت کم ہیں۔ ان احکام کو وضع کرنے کا مقصد ’’معیار ی سماج‘‘بنانا نہیں ہے بلکہ ان کا اصل مقصد یہ ہے کہ سماج میں ضروری نظم برقرار رہے

It is just to maintain a necessary level of order in society

عوام کے سامنے سزا دینا دراصل سزا میں عبرت کا پہلو شامل کرناہے۔ اس کا مقصد یہ ہے کہ حال کے مجرم کا انجام دیکھ کر مستقبل کے مجرم ڈر جائیں اور اس قسم کا جرم کرنے سے باز رہیں۔زانی اور زانیہ اگر سزا کے بعد توبہ اور اصلاح کرلیں تو وہ دوبارہ عام مسلمانوں کی طرح ہوجائیں گے۔ لیکن اگر وہ توبہ اور اصلاح نہ کریں تو اس کے بعد وہ اس قابل نہیں رہتے کہ اسلام معاشرہ میں وہ رشتہ اور تعلق کے ليے قبول کيے جاسکیں۔


Connections

  • Previous: (Start of Surah)
  • Next: 24_2
  • Thematic: (add links here)

Tafsir Notes