Recitation (Mishary Rashid Alafasy)

Next 23:97 Prev 23:95


Arabic

ٱدۡفَعۡ بِٱلَّتِي هِيَ أَحۡسَنُ ٱلسَّيِّئَةَۚ نَحۡنُ أَعۡلَمُ بِمَا يَصِفُونَ


Urdu (Syed Abul A’la Maududi)

اے نبیؐ، برائی کو اس طریقہ سے دفع کرو جو بہترین ہو جو کچھ باتیں وہ تم پر بناتے ہیں وہ ہمیں خوب معلوم ہیں


English (Sahih International)

Repel, by [means of] what is best, [their] evil. We are most knowing of what they describe


Tafsir — Bayan ul Quran (Dr. Israr Ahmad)

This commentary covers ayaat 96 and 97.

آیت 96 اِدْفَعْ بالَّتِیْ ہِیَ اَحْسَنُ السَّیِّءَۃَ ط ” آپ ﷺ ان کی شرارتوں سے خوبصورتی کے ساتھ درگزر کریں۔ ان لوگوں کا آپ ﷺ کے ساتھ جیسا بھی رویہ ہو مگر آپ ﷺ کو اس کا مقابلہ نیکی اور بھلائی سے ہی کرنا ہے۔ چناچہ آپ ﷺ ان کی گالیوں کے جواب میں انہیں دعا دیں اور ان کے برا بھلا کہنے کے باوجود آپ ﷺ اس کو اللہ کی طرف بلاتے رہیں۔نَحْنُ اَعْلَمُ بِمَا یَصِفُوْنَ ”جو کچھ یہ ہرزہ سرائی کر رہے ہیں ہم اس سے خوب واقف ہیں۔


Tafsir — Tazkirul Quran (Maulana Wahiduddin Khan)

This commentary covers ayaat 96 to 98.

خدا کا داعی جب لوگوں کو حق کی طرف بلاتا ہے تو اکثر ایسا ہوتاہے کہ لوگ اس کے دشمن بن جاتے ہیں۔ وہ اس کے خلاف جھوٹے پروپيگنڈے کرتے ہیں۔ وہ اس کو اپنے شرکا نشانہ بناتے ہیں۔ اس وقت داعی کے اندر بھی جوابی ذہن ابھرتا ہے۔ اس کے دل میں یہ خیال آتاہے کہ جن لوگوں نے تمھارے ساتھ برا سلوک کیا ہے تم بھی ان کے ساتھ برا سلوک کرو۔ اگر تم خاموش رہے تو ان کے حوصلے بڑھیں گے اور وہ مزید مخالفانہ کارروائی کرنے کے ليے دلیر ہوجائیں گے۔

مگر اس قسم کے خیالات شیطان کا وسوسہ ہیں۔ شیطان اس نازک موقع پر آدمی کو بہکاتا ہے تاکہ اس کو راہ سے بے راہ کردے۔ ایسے موقع پر داعی اور مومن کو چاہيے کہ وہ شیطانی بہکاووں کے مقابلہ میں خدا کی پناہ مانگے نہ کہ شیطانی بہکاووں کو مان کر اپنے مخالفین کے خلاف انتقامی کارروائیاں کرنے لگے۔


Connections

  • Previous: 23_95
  • Next: 23_97
  • Thematic: (add links here)

Tafsir Notes