Recitation (Mishary Rashid Alafasy)

Next 23:85 Prev 23:83


Arabic

قُل لِّمَنِ ٱلۡأَرۡضُ وَمَن فِيهَآ إِن كُنتُمۡ تَعۡلَمُونَ


Urdu (Syed Abul A’la Maududi)

ان سے کہو، بتاؤ اگر تم جانتے ہو، کہ یہ زمین اور اس کی ساری آبادی کس کی ہے؟


English (Sahih International)

Say, [O Muhammad], “To whom belongs the earth and whoever is in it, if you should know


Tafsir — Bayan ul Quran (Dr. Israr Ahmad)

This commentary covers ayaat 84 to 86.

آیت 84 قُلْ لِّمَنِ الْاَرْضُ وَمَنْ فِیْہَآ اِنْ کُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ ”اس سورة مبارکہ کا یہ آخری حصہ بہت ہی پر جلال ہے۔ قاری محمد صدیق المنشاوی ان کا تعلق مصر سے ہے نے ان آیات کی تلاوت ایسے ُ پر سوز انداز میں کی ہے کہ اسے سنتے ہوئے آنسو ضبط کرنا مشکل ہوجاتا ہے۔


Tafsir — Tazkirul Quran (Maulana Wahiduddin Khan)

This commentary covers ayaat 84 to 89.

ان آیات میں اس تضادِ فکر کا تذکرہ ہے جس میں ہر دور کے بیشتر لوگ مبتلا رہے ہیں۔ خواہ وہ مشرک ہوں یا غیر مشرک۔ بظاہر خدا کو ایک ماننے والے ہوں یا کئی ماننے والے۔

بیشتر لوگوں کا حال یہ ہے کہ وہ اس بات کو مانتے ہیں کہ زمین وآسمان کا خالق ایک اللہ ہے۔ وہی اس کا مالک ہے۔ وہی اس کو چلا رہا ہے۔ تمام بر تر اختیارات اسی کو حاصل ہیں۔ مگر اس ماننے کا جو لازمی تقاضا ہے اس کا کوئی اثر ان کی زندگیوں میں نہیں پایا جاتا۔

اس عظیم اقرار کا تقاضا ہے کہ وہی ان کی سوچ بن جائے۔ خدا کا احساس ان کے اندر خوف بن کر داخل ہوجائے۔ ان کے اندر یہ مادہ پیدا ہو کہ ان کے سامنے حق آئے تو وہ فوراً اس کا اعتراف کرلیں۔ ان کی زندگی پوری کی پوری اسی میں ڈھل جائے۔ مگر یہ سب کچھ نہیں ہوتا۔ وہ اگرچہ عقیدہ کے طورپر خدا کو مانتے ہیں مگر ان کا عقیدۂ خدا الگ رہتا ہے اور ان کی حقیقی زندگی الگ۔

خدا کا تصور انسان کو مسحور نہیں کرتا۔ البتہ دوسری چیزیں اس کی نظر میں اتنی اہم بن جاتی ہیں جن سے وہ مسحور ہو کر رہ جائے۔ کیسا عجیب ہے انسان کا معاملہ۔


Connections

  • Previous: 23_83
  • Next: 23_85
  • Thematic: (add links here)

Tafsir Notes