Recitation (Mishary Rashid Alafasy)
Arabic
وَهُوَ ٱلَّذِيٓ أَنشَأَ لَكُمُ ٱلسَّمۡعَ وَٱلۡأَبۡصَٰرَ وَٱلۡأَفۡـِٔدَةَۚ قَلِيلٗا مَّا تَشۡكُرُونَ
Urdu (Syed Abul A’la Maududi)
وہ اللہ ہی تو ہے جس نے تمہیں سُننے اور دیکھنے کی قوتیں دیں اور سوچنے کو دل دیے مگر تم لوگ کم ہی شکر گزار ہوتے ہو
English (Sahih International)
And it is He who produced for you hearing and vision and hearts; little are you grateful
Tafsir — Bayan ul Quran (Dr. Israr Ahmad)
The commentary on this ayah is given with ayah 23:76.
Tafsir — Tazkirul Quran (Maulana Wahiduddin Khan)
This commentary covers ayaat 78 to 80.
انسان اس کائنات کی وہ خاص مخلوق ہے جس کو استثنائی طورپر سننے اور دیکھنے او ر سوچنے کی اعلیٰ صلاحیتیں دی گئی ہیں۔ یہ خصوصی صلاحیتیں یقیناً کسی خصوصی مقصد کے ليے ہیں۔ وہ مقصد یہ ہے کہ آدمی ان کو حقیقتِ حیات کی معرفت کے ليے استعمال کرے۔ وہ اپنے کان سے اس صداقت کی آواز کو سنے جس کا اعلان یہاں کیا جارہا ہے۔ وہ اپنی آنکھ سے ان نشانیوں کو دیکھے جو اس کے چاروں طرف بکھری ہوئی ہیں۔ وہ اپنی سوچنے کی صلاحیت کو استعمال کرکے ان کی گہرائی تک پہنچے۔ یہی کان اور آنکھ اور دل کا شکر ہے۔ جو لوگ موجودہ دنیا میں اس شکر کا ثبوت نہ دیں وہ ان انعامات کا استحقاق ہمیشہ کے ليے کھورہے ہیں۔
خدا کی جو صفات دنیا میں نمایاں ہورہی ہیں ان میں سے ایک یہ ہے کہ وہ زندہ کو مُردہ اور مُردہ کو زندہ کرتا ہے۔ یہ خدا بالآخر تمام مَرے ہوئے لوگوں کو دوبارہ جمع کرے گا۔ پھر جس طرح وہ رات کو دن بناتا ہے اسی طرح وہ لوگوں کی نگاہوں سے غفلت کا پردہ ہٹادے گا۔ اس کے بعد اشیاء کی حقیقت لوگوں پر ٹھیک ٹھیک منکشف ہوجائے گی۔