Recitation (Mishary Rashid Alafasy)
Arabic
۞وَلَوۡ رَحِمۡنَٰهُمۡ وَكَشَفۡنَا مَا بِهِم مِّن ضُرّٖ لَّلَجُّواْ فِي طُغۡيَٰنِهِمۡ يَعۡمَهُونَ
Urdu (Syed Abul A’la Maududi)
اگر ہم اِن پر رحم کریں اور وہ تکلیف جس میں آج کل یہ مبتلا ہیں دُور کر دیں تو یہ اپنی سرکشی میں بالکل ہی بہک جائیں گے
English (Sahih International)
And even if We gave them mercy and removed what was upon them of affliction, they would persist in their transgression, wandering blindly
Tafsir — Bayan ul Quran (Dr. Israr Ahmad)
آیت 75 وَلَوْ رَحِمْنٰہُمْ وَکَشَفْنَا مَا بِہِمْ مِّنْ ضُرٍّ لَّلَجُّوْا فِیْ طُغْیَانِہِمْ یَعْمَہُوْنَ ”ان الفاظ سے یوں لگتا ہے کہ اس سورت کے نزول کے زمانہ میں اہل مکہّ کسی مصیبت میں گرفتار تھے۔ سورة الانعام اور سورة الاعراف میں اللہ تعالیٰ کی اس سنت کا ذکر گزر چکا ہے جس کے تحت ہر رسول کی بعثت کے بعد متعلقہ قوم پر چھوٹے چھوٹے عذاب بھیجے جاتے تھے اور انہیں مختلف قسم کی تکالیف میں مبتلا کیا جاتا تھا تاکہ وہ خواب غفلت سے جاگیں اور ان کے ذہن حق کی دعوت پر غور و فکر کرنے کے لیے تیار ہوجائیں۔
Tafsir — Tazkirul Quran (Maulana Wahiduddin Khan)
This commentary covers ayaat 75 to 77.
مکی دور میں جب قریش نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت کورد کردیا تو اللہ تعالیٰ نے چند سال کے ليے مکہ والوں کو قحط میں مبتلا کردیا۔ یہ قحط اتنا شدید تھا کہ بہت سے لوگ مردار کھانے پر مجبور ہوگئے۔ یہ اللہ تعالیٰ کی ایک عام سنت ہے کہ جب کوئی گروہی سرکشی اختیار کرتا ہے اور نصیحت قبول کرنے پر تیارنہیںہوتا تو وہ اس گروہ پر تنبیہی عذاب بھیجتا ہے تاکہ ان کے دل نرم ہوں اور وہ حق بات کی طرف دھیان دے سکیں۔
مگر تاریخ کا تجربہ ہے کہ انسان نہ اچھے حالات سے سبق لیتا هے اور نہ برے حالات سے۔ دونوں قسم کے حالات کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ آدمی اللہ کی طرف رجوع کرے۔ مگر انسان یہ کرتا ہے کہ وہ اچھے حالات کو اپنی تدبیر کا نتیجہ سمجھ لیتاہے اور برے حالات کو زمانہ کے الٹ پھیر کا۔ اس طرح وہ دونوں ہی قسم کے واقعات سے سبق لینے سے محروم رہتا ہے۔
آدمی اسی طرح غفلت میں پڑا رہتا ہے يہاں تک کہ خدا کا آخری فیصلہ آجاتا ہے۔ اس وقت وہ حیران رہ جاتا ہے کہ وہ چیز جس کو اس نے غیر اہم سمجھ کر نظر انداز کردیا تھا وہی اس دنیا کی سب سے بڑی اور سب سے اہم حقیقت تھی۔