Recitation (Mishary Rashid Alafasy)
Arabic
بَلۡ قُلُوبُهُمۡ فِي غَمۡرَةٖ مِّنۡ هَٰذَا وَلَهُمۡ أَعۡمَٰلٞ مِّن دُونِ ذَٰلِكَ هُمۡ لَهَا عَٰمِلُونَ
Urdu (Syed Abul A’la Maududi)
مگر یہ لوگ اس معاملے سے بے خبر ہیں اور ان کے اعمال بھی اس طریقے سے (جس کا اوپر ذکر کیا گیا ہے) مختلف ہیں وہ اپنے یہ کرتوت کیے چلے جائیں گے
English (Sahih International)
But their hearts are covered with confusion over this, and they have [evil] deeds besides disbelief which they are doing
Tafsir — Bayan ul Quran (Dr. Israr Ahmad)
This commentary covers ayaat 63 and 64.
وَلَہُمْ اَعْمَالٌ مِّنْ دُوْنِ ذٰلِکَ ہُمْ لَہَا عٰمِلُوْنَ ”اوپر اہل ایمان کے جن اعمال کا تذکرہ کیا گیا ہے ‘ ان کے مشاغل اور سرگرمیاں ان سے یکسر مختلف ہیں۔ ایسے لوگوں کے پاس دین کی خدمت اور بھلائی کے کاموں کے لیے وقت ہی نہیں ہے۔ انہیں دن رات اپنی دنیا کمانے کی فکر ہے۔ وہ اپنے وقت کاُ کل سرمایہ اپنی ساری توانائیوں سمیت خود ساختہ جھوٹے معیارات کو برقرار رکھنے اور زیادہ سے زیادہ دولت کمانے کے لیے کھپا رہے ہیں۔ اس آیت کے مضمون کی روشنی میں ہر شخص کو اپنی مصروفیات کا جائزہ لینا چاہیے کہ اس کی شبانہ روز تگ و دو اور بھاگ دوڑ کا کتنا حصہ دین کے لیے ہے اور کتنا حصہ دنیا کے لیے۔ اگر کسی شخص کی تمام تر کوشش اور ساری محنت ہے ہی دنیا کے لیے ‘ اس کا نصب العین بھی دنیا ہے اور اس نے منصوبہ بندی بھی صرف اسی کے لیے کر رکھی ہے تو اسے سوچنا چاہیے کہ آخرت کی تیاری کرنے کے لیے فرصت کے لمحات اسے کب اور کیسے میسر آئیں گے ؟
Tafsir — Tazkirul Quran (Maulana Wahiduddin Khan)
This commentary covers ayaat 63 to 67.
جو لوگ دنیا پرستی میں غرق ہوں انھیں خدا اور آخرت کی باتوں سے دل چسپی نہیں ہوتی۔ ان کی دل چسپی کی چیزیں اس سے مختلف ہوتی ہیں جو سچے اہل ایمان کی دل چسپی کی چیزیں ہوتی ہیں۔ خدا اور آخرت کی بات خواہ کتنے ہی مؤثر انداز میں بیان کی جائے، انھیں وہ زیادہ اپیل نہیں کرتی۔ وہ ایسی باتوں کو نظر انداز کرکے اپنی دوسری دلچسپیوں میں گم رہتے ہیں۔ وہ داعی حق کی مجلس سے اس طرح اٹھ جاتے ہیں جیسے وه کسی فضول قصہ گو کو چھوڑ کر چلے گئے۔
مگر جب خدا کی پکڑ آتی ہے تو ایسے لوگ غفلت اور سرکشی کو بھول کر عاجزانہ فریاد کرنے لگتے ہیں۔ اس وقت وہ خدا کے آگے جھک جاتے ہیں۔ مگر اس وقت کا جھکنا بیکار ہو تا ہے۔ کیوں کہ خدا کے آگے جھکنا وہ معتبر ہے جب کہ آدمی خدا کی نشانی کو دیکھ کر جھک گیا ہو۔ جب خدا خود اپنی طاقتوں کے ساتھ ظاہر ہوجائے اس وقت جھکنے کی کوئی قیمت نہیں۔