Recitation (Mishary Rashid Alafasy)

Next 23:54 Prev 23:52


Arabic

فَتَقَطَّعُوٓاْ أَمۡرَهُم بَيۡنَهُمۡ زُبُرٗاۖ كُلُّ حِزۡبِۭ بِمَا لَدَيۡهِمۡ فَرِحُونَ


Urdu (Syed Abul A’la Maududi)

مگر بعد میں لوگوں نے اپنے دین کو آپس میں ٹکڑے ٹکڑے کر لیا ہر گروہ کے پاس جو کچھ ہے اُسی میں وہ مگن ہے


English (Sahih International)

But the people divided their religion among them into sects - each faction, in what it has, rejoicing


Tafsir — Bayan ul Quran (Dr. Israr Ahmad)

This commentary covers ayaat 53 to 55.

آیت 53 فَتَقَطَّعُوْٓا اَمْرَہُمْ بَیْنَہُمْ زُبُرًا ط ”اَمر سے یہاں مراد ”دین“ ہے۔ یعنی انہوں نے اپنے دین کو ٹکڑے ٹکڑے کر ڈالا ‘ اور وہ یہودیت ‘ عیسائیت وغیرہ ناموں پر مختلف گروہوں میں بٹ گئے۔


Tafsir — Tazkirul Quran (Maulana Wahiduddin Khan)

This commentary covers ayaat 53 to 56.

خدا کا دین جب اپنی اصل روح کے ساتھ زندہ ہو تو وہ لوگوں میں خوف پیدا کرتاہے اور جب دین کی اصل روح نکل جائے تو وہ فخر کا ذریعہ بن جاتاہے۔ یہی وہ وقت ہے جب کہ اہلِ دین گروہوں میںبٹ کر ٹکڑے ٹکڑے ہوجاتے ہیں۔ ہر گروہ اپنے حالات کے لحاظ سے کوئی ایسا پہلو لے لیتاہے جس میں اس کے ليے فخر کا سامان موجود ہو۔ فخر والے دین ہمیشہ کئی ہوتے ہیں اور خوف والا دین ہمیشہ ایک ہوتاہے۔ بے خوفی کی نفسیات رایوں کا تعدد پیدا کرتی ہے اور خوف کی نفسیات رایوں کا اتحاد۔

موجودہ دنیا میں انسان حالتِ امتحان میں ہے۔ خدا کے علم میں کسی شخص یا گروہ کی جو مدت ہے اس مدت تک اس کو زندگی کا سامان لازماً دیا جاتا ہے۔ اس بنا پر غافل لوگ سمجھ لیتے ہیں کہ وہ جو کچھ کررہے ہیں۔ صحیح کررہے ہیں۔ اگر وہ غلطی پر ہوتے تو ان کا مال واسباب ان سے چھین لیا جاتا۔ حالاں کہ خدا کا قانون یہ ہے کہ مال واسباب مدتِ امتحان کے ختم ہونے پر چھینا جائے، نہ کہ امتحان کے دوران میں ہدایت سے انحراف پر ۔


Connections

  • Previous: 23_52
  • Next: 23_54
  • Thematic: (add links here)

Tafsir Notes