Recitation (Mishary Rashid Alafasy)

Next 23:51 Prev 23:49


Arabic

وَجَعَلۡنَا ٱبۡنَ مَرۡيَمَ وَأُمَّهُۥٓ ءَايَةٗ وَءَاوَيۡنَٰهُمَآ إِلَىٰ رَبۡوَةٖ ذَاتِ قَرَارٖ وَمَعِينٖ


Urdu (Syed Abul A’la Maududi)

اور ابن مریم اور اس کی ماں کو ہم نے ایک نشان بنایا اور ان کو ایک سطحِ مرتفع پر رکھا جو اطمینان کی جگہ تھی اور چشمے اس میں جاری تھے


English (Sahih International)

And We made the son of Mary and his mother a sign and sheltered them within a high ground having level [areas] and flowing water


Tafsir — Bayan ul Quran (Dr. Israr Ahmad)

This commentary covers ayaat 50 and 51.

وَّاٰوَیْنٰہُمَآ اِلٰی رَبْوَۃٍ ذَاتِ قَرَارٍ وَّمَعِیْنٍ ”یہاں جس جگہ کا ذکر ہوا ہے اس کے مقام اور زمانے کے بارے میں اختلاف ہے۔ اس بارے میں ایک رائے تو یہ ہے کہ اس سے مراد وہی ٹیلا ہے جہاں ایک کھجور کے سایے میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی ولادت ہوئی تھی۔ شاید آپ علیہ السلام کی ولادت کے بعد ماں بیٹا کچھ عرصہ اسی جگہ پر قیام پذیر رہے ہوں۔ اس کے برعکس کچھ لوگوں کی رائے میں یہ کسی اور جگہ کا ذکر ہے۔ اس دوسری رائے کی بنیاد جن معلومات پر ہے ان کے مطابق حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی پیدائش کے وقت اس علاقے میں ہیرودیس بادشاہ کی حکومت تھی جو یہودی تھا۔ جس طرح برصغیر میں انگریزوں کی طرف سے راجوں اور نوابوں کو ان کے علاقوں میں حکمران بنا دیا جاتا تھا اسی طرح رومن شہنشاہ نے اس علاقے میں اس شخص کو بادشاہ مقرر کر رکھا تھا۔ اس کٹھ پتلی بادشاہ کو ایک خواب آیا تھا جس کی بنا پر نجومیوں نے اس کے دل میں یہ وہم ڈال دیا کہ تمہاری سلطنت میں ایک ایسا بچہ پیدا ہونے والا ہے جو بڑا ہو کر تمہاری ہلاکت کا باعث بنے گا۔ چناچہ اس نے حکم دے رکھا تھا کہ اس کی سلطنت میں جو لڑکا بھی پیدا ہو ‘ اسے قتل کردیا جائے۔ اِن حالات میں حضرت مریم ‘ حضرت عیسیٰ علیہ السلام ٰ کو لے کر مصر چلی گئیں اور اس یہودی بادشاہ کے انتقال کے بعد اس وقت واپس آئیں جب حضرت عیسیٰ علیہ السلام ٰ دس بارہ سال کی عمر کو پہنچ چکے تھے۔ اس واقعہ کا ذکر بائبل میں بھی ہے۔ چناچہ جو لوگ اس روایت کو درست سمجھتے ہیں ان کا خیال ہے کہ اپنی اس جلاوطنی کے دوران مصر میں جس جگہ پر انہوں نے قیام کیا تھا آیت زیر نظر میں اس جگہ کا ذکر کیا گیا ہے۔


Tafsir — Tazkirul Quran (Maulana Wahiduddin Khan)

حضرت مسیح کی بغیر باپ کے پیدائش ایک بے حد انوکھا واقعہ تھا۔ یہ واقعہ کیوں ہوا۔ یہ ایک ’’نشانی‘‘ کے طورپر ہوا۔ قدیم زمانہ میں یہود کو حاملِ رسالت گروہ کی حیثیت حاصل تھی۔ مگر انھوں نے مسلسل سرکشی سے اپنے ليے اس کا استحقاق کھو دیا۔ اب وقت آگیا تھا کہ یہ امانت ان سے لے کر بنو اسماعیل کو دے دی جائے۔ چناںچہ یہود کے اوپر آخری اتمام حجت کے ليے ان کے آخری پیغمبر کو معجزاتی انداز میں پیدا کیا گیا۔ اور اس پیغمبر کو مزید غیر معمولی معجزے دئے گئے۔ اس کے باوجود جب یہود آپ کے منکر بنے رہے تو یہ بات آخری طور پر ثابت ہوگئی کہ وہ حامل رسالت بننے کے اہل نہیں ہیں۔

حضرت مسیح کی والدہ حضرت مریم کے ليے یہ انتہائی نازک مرحلہ تھا۔ ایسے حا ل میں ان کو سخت ضرورت تھی کہ کوئی ایسا گوشہ ہو جہاں وہ لوگوں کی نظروں سے دور ہو کر رہ سکیں۔ وہاں زندگی کی ضروری چیزیں بھی ہوں اور سکون واطمینان بھی حاصل ہو۔ اللہ تعالیٰ نے جب ان کو اس نازک امتحان میں ڈالا تو اسی کے ساتھ ان کے وطن کے قریب ایک پُرامن گوشہ بھی ان کے ليے مہیا فرمادیا۔


Connections

  • Previous: 23_49
  • Next: 23_51
  • Thematic: (add links here)

Tafsir Notes