Recitation (Mishary Rashid Alafasy)
Arabic
قَالَ رَبِّ ٱنصُرۡنِي بِمَا كَذَّبُونِ
Urdu (Syed Abul A’la Maududi)
رسول نے کہا “پروردگار، اِن لوگوں نے جو میری تکذیب کی ہے، اس پر اب تو ہی میری نصرت فرما
English (Sahih International)
He said, “My Lord, support me because they have denied me
Tafsir — Bayan ul Quran (Dr. Israr Ahmad)
The commentary on this ayah is given with ayah 23:38.
Tafsir — Tazkirul Quran (Maulana Wahiduddin Khan)
This commentary covers ayaat 39 to 41.
خدا کا پیغمبر جس چیز کے اعلان کے ليے آتا ہے وہ اس کائنات کی سب سے سنگین حقیقت ہے۔ مگر پیغمبر اس حقیقت کو صرف دلیل کے روپ میں ظاہر کرتاہے۔ وہی لوگ دراصل مومن ہیں جو اس کو دلیل کے روپ میں پہچانیں اور اپنے آپ کو اس کے حوالہ کردیں۔
جب کوئی گروہ آخری طورپر یہ ثابت کردے کہ وہ حقیقت کو دلیل کے روپ میں پہچاننے کی صلاحیت نہیں رکھتا تو پھر خدا حقیقت کو ’’صَیْحَه‘‘ کے روپ میں ظاہر کرتا ہے۔ حقیقت ایک ایسی چنگھاڑ بن جاتی ہے جس کا سامنا کرنے کی طاقت کسی کو نہ ہو۔ مگر جب حقیقت صَیْحَهکے روپ میں ظاہر ہو جائے تو یہ اس کو بھگتنے کا وقت ہوتا ہے، نہ کہ اس کو ماننے کا۔ حقیقت جب صَیْحَهکے روپ میں ظاہر ہوتی ہے تو آدمی کے حصہ میں صرف یہ رہ جاتا ہے کہ وہ ابد تک اپنی اس نادانی پر پچھتاتا رہے کہ اس نے حقیقت کو دیکھا مگر وہ اس کی طرف سے اندھا بنا رہا۔ حقیقت کی آواز اس کے کان سے ٹکرائی مگر اس نے اس کو سننے کے ليے اپنے کان بند کرلئے۔