Recitation (Mishary Rashid Alafasy)

Next 23:18 Prev 23:16


Arabic

وَلَقَدۡ خَلَقۡنَا فَوۡقَكُمۡ سَبۡعَ طَرَآئِقَ وَمَا كُنَّا عَنِ ٱلۡخَلۡقِ غَٰفِلِينَ


Urdu (Syed Abul A’la Maududi)

اور تمہارے اوپر ہم نے سات راستے بنائے، تخلیق کے کام سے ہم کچھ نابلد نہ تھے


English (Sahih International)

And We have created above you seven layered heavens, and never have We been of [Our] creation unaware


Tafsir — Bayan ul Quran (Dr. Israr Ahmad)

آیت 17 وَلَقَدْ خَلَقْنَا فَوْقَکُمْ سَبْعَ طَرَآءِقَق ”عام طور پر ”سَبْعَ طَرَآءِقَ“ سے سات آسمان مراد لیے جاتے ہیں۔ ”طرائق“ کے معنی راستوں کے بھی ہیں اور طبقوں کے بھی۔ دوسرے معنی کے مطابق اس سے ”تہہ بر تہہ سات آسمان“ مراد ہیں۔ واللہ اعلم ! جب تک انسانی علم کی رسائی اس کی حقیقت تک نہ ہوجائے ‘ اس بارے میں یقین سے کچھ نہیں کہا جاسکتا۔ اس لحاظ سے یہ آیت متشابہات میں سے ہوگی۔


Tafsir — Tazkirul Quran (Maulana Wahiduddin Khan)

This commentary covers ayaat 17 to 22.

انسان ایک حقیر وجود ہے۔ اس کے مقابلہ میں کائنات دہشت ناک حد تک عظیم ہے۔ مگر کائنات کا سب سے زیادہ حیرت انگیز پہلو یہ ہے کہ وہ انسان کے ليے انتہائی طورپر موافق ہے۔

یہاں وسیع خلا میں اَن گنت ستارے اور سیارے تیز رفتاری کے ساتھ گھوم رہے ہیں مگر بے شمار ناموافق امکانات کے باوجود وہ انسان کے ليے کوئی ناموافق صورت حال پیدا نہیں کرتے۔ بارش اگر بہت زیادہ برسنے لگے تو انسانی آبادیا ں تباہ ہوجائیں مگر اس کی بھی ایک حد ہے، وہ اس حد سے باہر نہیں جاتی۔ زمین پر پانی کے جو ذخیرے ہیں وہ سب کے سب زمین میں جذب ہوسکتے ہیں یا بھاپ بن کر فضا میں اڑ سکتے ہیں مگر کبھی ایسا نہیں ہوتا۔

مزید یہ کہ زمین کی صورت میں ایک استثنائی کرہ موجود ہے جو ایسا معلوم ہوتا ہے کہ خاص طورپر انسان کی ضروریات کو سامنے رکھ کر بنایا گیا ہے۔ یہاں انسان کی غذائی ضروریات سے لے کر اس کی صنعتی ضروریات تک تمام چیزیں افراط کے ساتھ موجود ہیں۔زمین کے جانور بظاہر وحشی مخلوق ہیں مگر ان کو خدانے طرح طرح سے انسان کے ليے کار آمد بنادیا ہے۔ ان جانوروں کا پیٹ ایک حیرت انگیز کارخانہ هے جو گھاس اور چارہ لیتا ہے اور اس کو د ودھ اور گوشت جیسی قیمتی چیزوں میں تبدیل کرتا ہے۔ جانوروں میں سے بہت سے جانور ہیں جو جانور ہونے کے باوجود اپنے آپ کو پوری طرح انسان کے قبضہ میں دے دیتے ہیں کہ وہ ان پر سواری کرے اور ان سے دوسرے مختلف فائدے حاصل کرے۔یہ واقعات اس کا تقاضا کرتے ہیں کہ انسان اپنے مہربان خدا کو پہچانے اور اس کا شکر گزار بندہ بن کر رہے۔


Connections

  • Previous: 23_16
  • Next: 23_18
  • Thematic: (add links here)

Tafsir Notes