Recitation (Mishary Rashid Alafasy)
Arabic
قَٰلَ كَمۡ لَبِثۡتُمۡ فِي ٱلۡأَرۡضِ عَدَدَ سِنِينَ
Urdu (Syed Abul A’la Maududi)
پھر اللہ تعالی ان سے پوچھے گا “بتاؤ، زمین میں تم کتنے سال رہے؟
English (Sahih International)
[Allah] will say, “How long did you remain on earth in number of years
Tafsir — Bayan ul Quran (Dr. Israr Ahmad)
The commentary on this ayah is given with ayah 23:110.
Tafsir — Tazkirul Quran (Maulana Wahiduddin Khan)
This commentary covers ayaat 112 to 114.
عیش وہی ہے جو ابدی ہو۔ جو عیش ابدی نہ ہو وہ جب ختم ہوتا ہے تو ایسامعلوم ہوتا ہے کہ وہ بس ایک لمحہ تھا جو آیا اور گزر گیا۔
دنیا کی زندگی میں آدمی اس حقیقت کو بھولا رہتاہے۔ مگر آخرت میں یہ حقیقت اس پر آخری حد تک کھل جائے گی۔ اس وقت وہ جانے گا۔ مگر اس وقت جاننے کا کوئی فائدہ نہیں۔
دنیا میں آدمی کے سامنے حق آتاہے مگر وہ اپنے سکون کو برہم کرنا نہیں چاہتا اس ليے وہ اس کو قبول نہیںکرتا۔ وہ ملنے والے فائدے کی خاطر ملے ہوئے فائدہ کو چھوڑنے کے ليے تیار نہیںہوتا۔ یہاں کی عزت، یہاں کا آرام، یہاں کی مصلحتیں اس کو اتنی قیمتی معلوم ہوتی ہیں کہ اس کی سمجھ میں نہیں آتا کہ وہ کس طرح ایسا کرے کہ ’’چیز‘‘ کو نظر انداز کرکے اپنے آپ کو ’’بے چیز‘‘ سے وابستہ کرلے۔ حالاں کہ جب عمر کی مہلت پوری ہوگی تو سو سال بھی ایسا معلوم ہوگا جیسے کہ وہ بس ایک دن تھا جو آیا اور ختم ہوگیا۔