Recitation (Mishary Rashid Alafasy)

Next 23:110 Prev 23:108


Arabic

إِنَّهُۥ كَانَ فَرِيقٞ مِّنۡ عِبَادِي يَقُولُونَ رَبَّنَآ ءَامَنَّا فَٱغۡفِرۡ لَنَا وَٱرۡحَمۡنَا وَأَنتَ خَيۡرُ ٱلرَّـٰحِمِينَ


Urdu (Syed Abul A’la Maududi)

تم وہی لوگ تو ہو کہ میرے کچھ بندے جب کہتے تھے کہ اے ہمارے پروردگار، ہم ایمان لائے، ہمیں معاف کر دے، ہم پر رحم کر، تُو سب رحیموں سے اچھا رحیم ہے


English (Sahih International)

Indeed, there was a party of My servants who said, ‘Our Lord, we have believed, so forgive us and have mercy upon us, and You are the best of the merciful


Tafsir — Bayan ul Quran (Dr. Israr Ahmad)

The commentary on this ayah is given with ayah 23:104.


Tafsir — Tazkirul Quran (Maulana Wahiduddin Khan)

This commentary covers ayaat 109 to 111.

دنیا کی زندگی میں جب کہ ابھی آخرت کے حقائق آنکھوں کے سامنے نہیں آئے تھے۔ اس وقت خدا کے کچھ بندوں نے خدا کو اس کے جلال وکمال کے ساتھ پہچانا۔ ان کے سامنے حق کی دعوت مجرد دلائل کی سطح پر آئی۔ اس کے باوجود انھوں نے اس پر یقین کیا۔وہ اس کے بارے میں اس حد تک سنجیدہ ہوئے کہ اسی کو اپنی کامیابی اور ناکامی کا معیار بنا لیا۔ ایک اجنبی حق کے ساتھ اپنی کامل وابستگی کی انھیں یہ قیمت دینی پڑی کہ ماحول میں وہ مذاق کا موضوع بن گئے۔ اس کے باوجود انھوں نے اس سے اپنی وابستگی کو ختم نہیں کیا۔

یہ فکری استقامت ہی سب سے بڑا صبر ہے اور آخرت کا انعام آدمی کو اسی صبر کی قیمت میں ملتا ہے۔ وہی لوگ در اصل کامیاب ہیں جو موجودہ امتحان کی دنیا میں اس صبر کا ثبوت دے سکیں۔


Connections

Tafsir Notes