Recitation (Mishary Rashid Alafasy)

Next 23:2


Arabic

بِسۡمِ ٱللَّهِ ٱلرَّحۡمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ

قَدۡ أَفۡلَحَ ٱلۡمُؤۡمِنُونَ


Urdu (Syed Abul A’la Maududi)

یقیناً فلاح پائی ہے ایمان والوں نے جو


English (Sahih International)

Certainly will the believers have succeeded


Tafsir — Bayan ul Quran (Dr. Israr Ahmad)

آیت 1 قَدْ اَفْلَحَ الْمُؤْمِنُوْنَ ”اس آیت کا یہ ترجمہ شیخ الہند مولانا محمود حسن دیوبندی کا ہے۔ مگر خود حضرت شیخ الہند رح کا کہنا ہے کہ انہوں نے ”موضح القرآن“ میں شاہ عبدالقاد ردہلوی کا ترجمہ ہی اختیار کیا ہے اور اس میں کہیں کہیں زبان کی تبدیلیوں کے علاوہ کوئی اور تبدیلی نہیں کی۔ گویا بنیادی طور پر یہ ترجمہ شاہ عبدالقادر دہلوی رح کا ہے اور میرے نزدیک لفظ فلح کی اصل روح کے قریب ترین ہے۔ ”فَلَاح“ کا ترجمہ بالعموم ”کامیابی“ سے کیا جاتا ہے ‘ لیکن اس کے مفہوم کو درست انداز میں سمجھنے کے لیے ضروری ہے کہ لفظ ”فلاح“ کے حقیقی اور لغوی معنی کو اچھی طرح ذہن نشین کرلیا جائے۔ اس مادہ کے لغوی معنی ہیں : ”پھاڑنا“۔ اسی معنی میں کسان کو عربی میں ”فلّاح“ کہا جاتا ہے ‘ اس لیے کہ وہ اپنے ہل کی نوک سے زمین کو پھاڑتا ہے۔ عربی کی ایک کہاوت ہے : اِنَّ الحَدِید بالحَدِید یفلَحُ یعنی لوہا لوہے کو کاٹتا ہے۔ اس طرح فَلَح کا مفہوم گویا فلقَ کے قریب تر ہے۔ سورة الانعام کی آیت 95 میں لفظ ”فلق“ اسی مفہوم میں آیا ہے : اِنَّ اللّٰہَ فَالِقُ الْحَبِّ وَالنَّوٰی ط ”یقیناً اللہ تعالیٰ گٹھلیوں اور بیجوں کو پھاڑنے والا ہے“۔ اس سے اگلی آیت میں یہی لفظ اللہ تعالیٰ کے لیے نمود صبح کے حوالے سے اس طرح استعمال ہوا ہے : فَالِقُ الْاِصْبَاحِ ج یعنی وہ تاریکی کا پردہ چاک کر کے صبح کو نمودار کرنے والا ہے۔ چونکہ فلح اور فلق دونوں قریب المعنی الفاظ ہیں اور دونوں کے معنی پھاڑنا ہے اس لیے آیت زیر نظر میں فلح کا مفہوم سمجھنے کے لیے فٰلِقُ الْحَبِّ وَالنَّوٰی کے حوالے سے گٹھلی کے پھٹنے اور اس کے اندر سے کو نپلیں برآمد ہونے کے عمل کو ذہن میں رکھیں۔ جس طرح گٹھلی کے اندر پورا پودا بالقوہّ potentially موجود ہے ‘ اسی طرح انسان کے اندر بھی اس کی انا یا روح اپنی تمام تر خصوصیات کے ساتھ موجود ہے۔ اور جس طرح گٹھلی کے پھٹنے فلق سے دو کو نپلیں برآمد ہوتی ہیں اور پھر ان سے پورا درخت بنتا ہے اسی طرح جب انسانی وجود کے اندر موجود مادیت کے پردے چاک فلح ہوتے ہیں تو اس کی انا یا روح بےنقاب ہوتی ہے اور اس کی نشوونما سے اس کی معنوی شخصیت ترقی پاتی ہے۔ انسان کی اسی انا یا روح کو اقبال نے خودی کا نام دیا ہے اور اس کو اجاگر develop کرنے کے تصور پر اپنے فلسفے کی بنیاد رکھی ہے۔ ڈاکٹر رفیع الدین مرحوم نے خصوصی طور پر آئیڈیل یا آدرش کے فلسفہ کے حوالے سے اس ضمن میں گزشتہ صفحات میں سورة الحج کی آیت 73 کی تشریح بھی مدنظر رہے اپنی معرکۃ الآراء کتاب The Idealogy of the Future میں اقبال کے فلسفہ خودی کی بہترین تعبیر کی ‘ ہے۔انسان بظاہر ایک مادی وجود کا نام ہے۔ اس وجود میں ہڈیاں ہیں ‘ گوشت ہے اور دیگر اعضاء ہیں۔ لیکن اس مادی وجود کے اندر اس کی انا اور روح بھی ہے جو اس کی اصل شخصیت ہے۔ انسان کہتا ہے میرا ہاتھ ‘ میرا پاؤں ‘ میری آنکھ ‘ میری ٹانگ ‘ میرا سر ‘ میرا جسم ! لیکن اس ”میرا“ اور ”میری“ کی تکرار میں ”میں“ کہاں ہے اور کون ہے ؟ یہ ”میں“ دراصل انسان کی انایا روح ہے۔ یعنی انسان کو حیوانوں کے مقابلے میں صرف عقل و شعور کی دولت سے ہی نہیں نوازا گیا بلکہ اسے روح ربانی کی نورانیت بھی عطا کی گئی ہے۔ بقول علامہ اقبال ؂دم چیست ؟ پیام است ! شنیدی نشنیدی ؟در خاک تو یک جلوۂ عام است ندیدی ؟دیدن دگر آموز ! شنیدن دگر آموز ! !انسانی جسم کے اندر اس کی روح مادی غلافوں میں لپٹی ہوئی ہے۔ گویا یہ ایک مخفی خزانہ ہے جسے کھود کر نکالنے کی ضرورت ہے۔ اگر اس خزانے کو کام میں لانا ہے تو ”فلّاحی“ کے عمل سے مادیت کے پردوں کو چاک کرنا ہوگا اور آیت زیر نظر میں قَدْ اَفْلَحَ کے الفاظ اسی مفہوم میں آئے ہیں کہ مؤمنین صادقین نے اپنی روحوں پر پڑے ہوئے مادیت کے پردوں کو چاک کر کے اصل خزانے یعنی روح کو بےنقاب کرنے اور اس کی نشوونما develop کرنے کا مشکل کام کر دکھایا ہے۔ جبکہ عام انسان کی تمام تر توجہ اپنے حیوانی وجود پر ہی مرکوز رہتی ہے۔ نہ وہ اپنی روح کی خبر لیتا ہے اور نہ ہی اس کی غذا اور نشوونما کا اہتمام کرتا ہے۔ اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ ایسے انسان کی روح سسک سسک کر مرجاتی ہے اور اس کا جسم اس کی روح کا مقبرہ بن جاتا ہے۔ بظاہر ایسے شخص کا شمار زندہ انسانوں میں ہوتا ہے لیکن حقیقت میں وہ مردہ ہوتا ہے۔ مثلاً ابوجہل زندہ ہوتے ہوئے بھی مردہ تھا۔ وہ اندھا اور بہرا تھا ‘ اسی لیے نہ تو وہ محمد رسول اللہ ﷺ کو پہچان سکا اور نہ آپ ﷺ کی دعوت کو سن سکا۔ اس کے برعکس ایک بندۂ مؤمن ہے جو حقیقت میں زندہ ہے ‘ اس لیے کہ اس کی روح زندہ ہے۔ جیسے کہ سورة النحل کی آیت 97 میں ارشاد ہوا : فَلَنُحْیِیَنَّہٗ حَیٰوۃً طَیِّبَۃً ج ”تو ہم ضرور اسے عطا کریں گے ایک پاکیزہ زندگی“۔ چناچہ جو شخص بھی اپنی خودی کے ارتقاء development of self اور اپنے کردار کی تعمیر development of character کا مشکل کارنامہ سرانجام دے پائے گا وہی حقیقت میں کامیاب قرار پائے گا اور وہی آیت زیر مطالعہ کے حوالے سے قَدْ اَفْلَحَ کا مصداق ٹھہرے گا۔ اور یہ کامیابی ہر انسان کی پہنچ میں ہے ‘ کیونکہ روح کی دولت تو ہر انسان کو عطا ہوئی ہے۔ ہندی شاعر بھیکؔ کے بقول : ع ”بھیکاؔ بھوکا کوئی نہیں ‘ سب کی گدڑی لال !“ یعنی بھوکا یا نادار کوئی بھی نہیں ہے ‘ ہر انسان کی گٹھڑی میں لعل موجود ہے ‘ بس اس گٹھڑی کی گرہ کھول کر اس ”لعل“ یا دولت کو دریافت کرنے اور اسے کام میں لانے کا فن اسے آنا چاہیے۔ یہی نکتہ اس خوبصورت فارسی شعر میں ایک دوسرے انداز میں پیش کیا گیا ہے : ؂ ستم است گر ہو ست کشد کہ بہ سیرسرو وسمن درآ تو زغنچہ کم نہ دمیدۂ درِدل کشا بہ چمن در آ !یعنی تمہارے اندر بھی ایک مہکتا ہوا چمن موجود ہے ‘ تم اپنے دل کے دروازے سے داخل ہو کر اس چمن کی سیر سے لطف اندوز ہوسکتے ہو۔ اسی حقیقت کو قرآن حکیم میں اس طرح واضح کیا گیا ہے : وَفِیْٓ اَنْفُسِکُمْط اَفَلَا تُبْصِرُوْنَ الذّٰرٰیت یعنی خود تمہارے اندرمعرفت کا سامان موجود ہے مگر تم لوگ اس سے غافل ہو۔ اپنشد کے ایک جملے کا انگریزی ترجمہ اس طرح ہے :” Man in his ignorance identifies himself with the material sheeths which encompass his real self.”یعنی انسان اپنی جہالت کے باعث ان مادی غلافوں ہی کو اپنی ذات سمجھ بیٹھتا ہے جو اس کی ذات انا یا روح کے گرداگرد لپٹے ہوئے ہیں۔ اور یوں وہ نہ خود کو پہچان پاتا ہے اور نہ ہی اللہ تعالیٰ کی معرفت اسے حاصل ہوتی ہے۔ چناچہ اللہ کی معرفت حاصل کرنے کے لیے اپنی ذات کی معرفت ضروری ہے ‘ جیسے کہ صوفیاء کا قول ہے : مَنْ عَرَفَ نَفْسَہٗ فَقَدْ عَرَفَ رَبَّہٗ ”جس نے اپنے آپ کو پہچان لیا اس نے اپنے رب کو پہچان لیا“۔ دوسرے لفظوں میں اس کا مفہوم یہ ہے کہ جو اپنی ”انا“ self سے غافل رہا وہ معرفت الٰہی سے بھی محروم رہا۔ یہی نکتہ ہے جو سورة الحشر کی آیت 19 میں اس طرح واضح فرمایا گیا ہے : وَلَا تَکُوْنُوْا کَالَّذِیْنَ نَسُوا اللّٰہَ فَاَنْسٰٹہُمْ اَنْفُسَہُمْ ط ”ان لوگوں کی طرح نہ ہوجاؤ جنہوں نے اللہ کو بھلا دیا تو اللہ نے انہیں اپنے آپ سے غافل کردیا“۔ چناچہ لفظ فلحکا یہ مفہوم ذہن میں رکھ کر اس آیت کو پڑھیں تو بات واضح ہوجاتی ہے کہ اپنی شخصیت اور ذات کے مادی غلافوں کو پھاڑ کر اپنی معنوی شخصیت اور روح کو اجاگر کرنے اور اس کے ذریعے سے عرفان ذات اور پھر معرفتِ الٰہی تک پہنچنے جیسے مشکل مراحل ‘ اہل ایمان کامیابی سے طے کرلیتے ہیں۔ اور وہ کون سے اہل ایمان ہیں :


Tafsir — Tazkirul Quran (Maulana Wahiduddin Khan)

This commentary covers ayaat 1 to 16.

انسان کا بچہ ماں کے پیٹ کے اندر پرورش پاتا ہے۔ قدیم زمانہ میں استقرار حمل سے لے کر بچہ کی پیدائش تک کی پوری مدت انسان کے ليے ایک چھپی ہوئی چیز کی حیثیت رکھتی تھی۔ بیسویں صدی میں جدید سائنسی ذرائع کے بعد یہ ممکن ہوا ہے كه پیٹ میں پرورش پانے والے بچہ کا مشاہدہ کیا جائے اور اس کی بابت براہ راست معلومات حاصل کی جائیں۔

قرآن نے چودہ سو سال پہلے انسانی تخلیق کے جو مختلف تدریجی مراحل بتائے تھے، وہ حیرت انگیز طورپر دور جدید کے مشینی مشاہدہ کے عین مطابق ثابت ہوئے ہیں۔ یہ ایک کھلا ہوا ثبوت ہے کہ قرآن خدا کی کتاب ہے۔ اگر ایسا نہ ہوتا تو جدید تحقیق اور قرآن کے بیان میں اتنی کامل مطابقت ممکن نہ تھی۔

تخلیق کا یہ واقعہ جو ہر روز ماں کے پیٹ میں ہورہا ہے وہ بتاتاہے کہ اس دنیا کاخالق ایک حد درجہ باکمال ہستی ہے۔ انسان کی تخلیقِ اول کا حیرت ناک واقعہ جو ہر روز ہماری آنکھوں کے سامنے ہو رها ہے وہی یہ یقین دلانے کے لیے کافی ہے کہ اسی طرح تخلیقِ ثانی کا واقعہ بھی ہوگا۔ اور عین اس کے مطابق ہوگا جس کی خبر نبیوں کے ذریعہ دی گئی ہے۔


Connections

  • Previous: (Start of Surah)
  • Next: 23_2
  • Thematic: (add links here)

Tafsir Notes