Recitation (Mishary Rashid Alafasy)
Arabic
ٱللَّهُ يَصۡطَفِي مِنَ ٱلۡمَلَـٰٓئِكَةِ رُسُلٗا وَمِنَ ٱلنَّاسِۚ إِنَّ ٱللَّهَ سَمِيعُۢ بَصِيرٞ
Urdu (Syed Abul A’la Maududi)
حقیقت یہ ہے کہ اللہ (اپنے فرامین کی ترسیل کے لیے) ملائکہ میں سے بھی پیغام رساں منتخب کرتا ہے اور انسانوں میں سے بھی وہ سمیع اور بصیر ہے
English (Sahih International)
Allah chooses from the angels messengers and from the people. Indeed, Allah is Hearing and Seeing
Tafsir — Bayan ul Quran (Dr. Israr Ahmad)
اِنَّ اللّٰہَ سَمِیْعٌم بَصِیْرٌ ”یہاں رسالت کے دونوں واسطوں کا ذکر کردیا گیا ہے جس میں ایک ”رسول ملک“ ہے اور دوسر ا ”رسول بشر“ ہے۔ چناچہ فرشتوں میں سے حضرت جبرائیل علیہ السلام کو چنا گیا اور انسانوں میں سے حضرت محمد ﷺ کو۔ اور یوں رسول ملک کے ذریعے رسول بشر تک پیغام پہنچایا گیا تاکہ وہ اپنے ابنائے نوع تک اسے پہنچا دیں۔
Tafsir — Tazkirul Quran (Maulana Wahiduddin Khan)
This commentary covers ayaat 75 and 76.
اللہ نے جس اسکیم کے تحت انسان کو بنایا اور اس کو زمین پر رکھا، اس کا یہ تقاضا تھاکہ وہ انسانوں کی ہدایت کا انتظام کرے۔ وہ ان کو بتائے کہ جنت کا راستہ کون سا ہے اور جہنم کا راستہ کون سا۔ چنانچہ اس نے یہ انتظام کیا کہ وہ انسانوں میں سے کسی کو پیغمبری کے ليے چنتا ہے۔ اور اس کے پاس فرشتہ کے ذریعہ اپنا کلام بھیجتاہے۔
اس انتظام کے تحت انسان کو اصل حقیقت سے باخبر کیا جارہا ہے۔ دوسری طرف اللہ تعالیٰ لوگوں کے اعمال کی نگرانی بھی فرمارہا ہے۔ اس کے بعد جب امتحان کی مدت ختم ہوگی تو تمام لوگ خداکی طرف لوٹائے جائیں گے تاکہ اپنی اپنی کارکردگی کے مطابق اپنے انجام کو پائیں۔