Recitation (Mishary Rashid Alafasy)

Next 22:62 Prev 22:60


Arabic

ذَٰلِكَ بِأَنَّ ٱللَّهَ يُولِجُ ٱلَّيۡلَ فِي ٱلنَّهَارِ وَيُولِجُ ٱلنَّهَارَ فِي ٱلَّيۡلِ وَأَنَّ ٱللَّهَ سَمِيعُۢ بَصِيرٞ


Urdu (Syed Abul A’la Maududi)

یہ اس لیے کہ رات سے دن اور دن سے رات نکالنے والا اللہ ہی ہے اور وہ سمیع و بصیر ہے


English (Sahih International)

That is because Allah causes the night to enter the day and causes the day to enter the night and because Allah is Hearing and Seeing


Tafsir — Bayan ul Quran (Dr. Israr Ahmad)

آیت 61 ذٰلِکَ بِاَنَّ اللّٰہَ یُوْلِجُ الَّیْلَ فِی النَّہَارِ وَیُوْلِجُ النَّہَارَ فِی الَّیْلِ ”یعنی اس کائنات کا پورا نظام عدل و انصاف پر مبنی ہے۔ رات دن کا یہ الٹ پھیر اس نظام کے اندر موجود اعتدال و توازن کی ایک مثال ہے جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ کائنات کا یہ نظام ایسے ہی چل رہا ہے جیسے کہ اسے چلنا چاہیے۔ اس نظام کو درست رکھنے کے لیے قدرت کی طرف سے جو تدابیر اختیار کی جاتی ہیں ان سے متعلق قبل ازیں آیت 40 میں ایک راہنما اصول بتایا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ دنیا کے نظام میں ظالم اور مفسد قوتوں کو مستقلاً برداشت نہیں کرتا اور دوسری قوتوں کے ذریعے انہیں نیست و نابود کرتا رہتا ہے : وَلَوْلَا دَفْعُ اللّٰہِ النَّاسَ بَعْضَہُمْ بِبَعْضٍ لَّہُدِّمَتْ صَوَامِعُ وَبِیَعٌ وَّصَلَوٰتٌ وَّمَسٰجِدُ یُذْکَرُ فِیْہَا اسْمُ اللّٰہِ کَثِیْرًا ط ”اور اگر اللہ بعض لوگوں کو بعض دوسرے لوگوں کے ذریعے دور نہ کرتا رہتا ‘ تو ڈھا دیا جاتا خانقاہوں ‘ گرجوں ‘ معبدوں اور مسجدوں کو ‘ جن میں کثرت سے اللہ کا نام لیا جاتا ہے“۔ چناچہ جس طرح اللہ تعالیٰ انسانی معاشرے کے نظام کو عدل پر قائم رکھنے کے لیے انتظامات کرتا ہے اسی طرح اس نے کائناتی اور آفاقی نظام کو بھی ٹھیک ٹھیک چلانے کا اہتمام کر رکھا ہے۔


Tafsir — Tazkirul Quran (Maulana Wahiduddin Khan)

This commentary covers ayaat 61 and 62.

دنیا کا نظام خاموش زبان میں انسان کو زبردست سبق دے رہاہے۔ یہاں بار بار ایسا ہوتا ہے کہ رات کی تاریکی آتی ہے اوروہ دن کو ڈھانک لیتی ہے۔ یہاں ہر روز دن آتا ہے اور رات کی تاریکی کو ختم کردیتا ہے۔ یہ تمثیل کی زبان میں اس حقیقت کا کائناتی اعلان ہے کہ ایک گروہ اگر شان وشوکت حاصل کيے ہوئے ہو تو اس کو اس غلط فہمی میں نہیں رہنا چاہيے کہ اس کی شان شوکت ختم ہونے والی نہیں۔ اسی طرح دوسرا گروہ مظلوم ہے تو اس کو بھی یہ خیال نہیں کرنا چاہيے کہ اس کی مظلومیت ہمیشہ باقی رہے گی۔

جو خدا آسمانی دنیا میں روشنی کو تاریکی کے خانہ میںڈال دیتا ہے اور تاریکی کو روشنی کا روپ عطا کرتا ہے وہی خدا انسانی دنیا میں بھی اسی قسم کے واقعات رونما کرسکتا ہے۔ یہاں کوئی بھی طاقت نہیں جو خدا کو ایسا کرنے سے روک دے۔


Connections

  • Previous: 22_60
  • Next: 22_62
  • Thematic: (add links here)

Tafsir Notes