Recitation (Mishary Rashid Alafasy)

Next 22:48 Prev 22:46


Arabic

وَيَسۡتَعۡجِلُونَكَ بِٱلۡعَذَابِ وَلَن يُخۡلِفَ ٱللَّهُ وَعۡدَهُۥۚ وَإِنَّ يَوۡمًا عِندَ رَبِّكَ كَأَلۡفِ سَنَةٖ مِّمَّا تَعُدُّونَ


Urdu (Syed Abul A’la Maududi)

یہ لوگ عذاب کے لیے جلدی مچا رہے ہیں اللہ ہرگز اپنے وعدے کے خلاف نہ کرے گا، مگر تیرے رب کے ہاں کا ایک دن تمہارے شمار کے ہزار برس کے برابر ہُوا کرتا ہے


English (Sahih International)

And they urge you to hasten the punishment. But Allah will never fail in His promise. And indeed, a day with your Lord is like a thousand years of those which you count


Tafsir — Bayan ul Quran (Dr. Israr Ahmad)

This commentary covers ayaat 47 and 48.

آیت 47 وَیَسْتَعْجِلُوْنَکَ بالْعَذَابِ وَلَنْ یُّخْلِفَ اللّٰہُ وَعْدَہٗ ط ”عذاب کے بارے میں اللہ تعالیٰ کے سب وعدے ہر صورت میں پورے ہوں گے اور ان لوگوں پر عذاب آکر رہے گا۔ البتہ یہ عذاب کب آئے گا ؟ کس شکل میں آئے گا ؟ اس کے بارے میں صرف اللہ ہی جانتا ہے۔ اس نے ایسی تمام معلومات خفیہ رکھی ہیں۔ سورة الانبیاء میں اس موضوع سے متعلق حضور ﷺ سے یوں اعلان کرایا گیا : وَاِنْ اَدْرِیْٓ اَقَرِیْبٌ اَمْ بَعِیْدٌ مَّا تُوْعَدُوْنَ ”اور میں نہیں جانتا کہ جس عذاب کا تم لوگوں سے وعدہ کیا جا رہا ہے وہ قریب ہے یا کچھ عرصے بعد آئے گا۔“ وَاِنَّ یَوْمًا عِنْدَ رَبِّکَ کَاَلْفِ سَنَۃٍ مِّمَّا تَعُدُّوْنَ ”دنیا میں عام انسانی حساب کے مطابق ایک ہزار برس کا عرصہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک ایک دن کے برابر ہے۔ سورة السجدۃ میں یہی مضمون اس طرح بیان ہوا ہے : یُدَبِّرُ الْاَمْرَ مِنَ السَّمَآءِ اِلَی الْاَرْضِ ثُمَّ یَعْرُجُ اِلَیْہِ فِیْ یَوْمٍ کَانَ مِقْدَارُہٓٗ اَلْفَ سَنَۃٍ مِّمَّا تَعُدُّوْنَ ”اللہ آسمان سے زمین تک کے ہر معاملے کی تدبیر کرتا ہے ‘ پھر یہ چڑھتا ہے اس کی طرف ایک ایسے دن میں جس کی مقدار ہے ایک ہزار سال ‘ جیسے تم لوگ گنتے ہو“۔ یہ ”تدبیرِ اَمر“ دراصل اللہ تعالیٰ کے ان تین کاموں میں سے ایک ہے جن کے متعلق قبل ازیں سورة یونس کی آیت 3 کے تحت جلد چہارم شاہ ولی اللہ رح کی تصنیف ”حجۃ اللہ البالغہ“ کے حوالے سے بتایا جا چکا ہے ‘ یعنی ابداع ‘ خلق اور تدبیر۔ چناچہ اس تیسرے کام تدبیر کے سلسلے میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے فرشتوں کو طرح طرح کے احکام دیے جاتے ہیں اور پھر فرشتوں کے ذریعے سے ہی ان احکام کی تنفیذ execution ہوتی ہے۔ اس منصوبہ بندی میں اللہ کے ہاں ایک دن کا عرصہ انسانی گنتی کے مطابق ایک ہزار برس کے برابر ہے۔ یہاں یہ نکتہ بھی ذہن نشین کر لیجیے کہ یہ مضمون چونکہ بہت واضح الفاظ کے ساتھ قرآن میں دو مرتبہ آیا ہے اس لیے یہ معاملہ ”متشابہات“ میں سے نہیں بلکہ ”محکمات“ کے درجے میں ہے۔


Tafsir — Tazkirul Quran (Maulana Wahiduddin Khan)

This commentary covers ayaat 47 and 48.

اس دنیا میں کوئی شخص یا قوم اگر سرکشی کرے تو خدا ضرور اس کو پکڑتا ہے۔ مگر خدا کبھی پکڑنے میں جلدی نہیں کرتا۔ انسان ایک دن میں بے برداشت ہوسکتا ہے مگر خدا ایک ہزار سال تک بھی بے برداشت نہیں ہوتا۔ خدا نافرمانیوں کو دیکھتاہے پھر بھی لمبی مدت تک لوگوں کو موقع دیتا ہے تاکہ اگر وہ اصلاح کرنے والے ہوں تو اپنی اصلاح کرلیں۔ خدا کسی فرد یا قوم کو صرف اس وقت پکڑتاہے جب کہ وہ آخری طورپر اپنا مجرم ہونا ثابت کرچکے ہوں۔

پچھلے لوگوں کے ساتھ خدا نے یہی معاملہ کیا۔ آئندہ کے لوگوں کے ساتھ بھی خداا پنی اسی سنّت کے تحت معاملہ فرمائے گا۔


Connections

  • Previous: 22_46
  • Next: 22_48
  • Thematic: (add links here)

Tafsir Notes