Recitation (Mishary Rashid Alafasy)
Arabic
فَكَأَيِّن مِّن قَرۡيَةٍ أَهۡلَكۡنَٰهَا وَهِيَ ظَالِمَةٞ فَهِيَ خَاوِيَةٌ عَلَىٰ عُرُوشِهَا وَبِئۡرٖ مُّعَطَّلَةٖ وَقَصۡرٖ مَّشِيدٍ
Urdu (Syed Abul A’la Maududi)
کتنی ہی خطاکاربستیاں ہیں جن کو ہم نے تباہ کیا ہے اور آج وہ اپنی چھتوں پر اُلٹی پڑی ہیں، کتنے ہی کنویں بیکار اور کتنے ہی قصر کھنڈر بنے ہوئے ہیں
English (Sahih International)
And how many a city did We destroy while it was committing wrong - so it is [now] fallen into ruin - and [how many] an abandoned well and [how many] a lofty palace
Tafsir — Bayan ul Quran (Dr. Israr Ahmad)
آیت 45 فَکَاَیِّنْ مِّنْ قَرْیَۃٍ اَہْلَکْنٰہَا وَہِیَ ظَالِمَۃٌ ”اللہ تعالیٰ نے اس سے پہلے جس جس بستی کو ہلاک کیا ان کے باسی مجرم اور گناہگار تھے۔ جب بھی کوئی بستی کفر و شرک اور دوسرے گناہوں کے سبب معصیت اور برائی کا مرکز بن جاتی تو اس کا وجود معاشرے کے لیے خطرے کی علامت بن جاتا۔ چناچہ جس طرح انسانی جسم کا کوئی حصہ گل سڑ کرّ متعفن مواد سے بھر جائے تو باقی جسم کو محفوظ رکھنے کے لیے اس حصے یا عضو کو کاٹ پھینکنا نا گزیر ہوجاتا ہے ‘ بالکل اسی طرح اللہ کی مشیت سے ہر ایسی بستی کو صفحہ ہستی سے مٹا دیا گیا۔وَبِءْرٍ مُّعَطَّلَۃٍ ”ان تباہ ہونے والی بستیوں میں کتنے کنویں ہوں گے جو کسی وقت بڑی محنت سے کھودے گئے ہوں گے۔ اپنے اپنے وقت پر ان کنووں پر پانی بھرنے والے لوگوں کے کیسے کیسے جمگھٹے رہا کرتے ہوں گے ‘ مگر اب وہ کنویں ویران و معطل پڑے ہیں۔وَّقَصْرٍ مَّشِیْدٍ ”ان قوموں کے گچ کاری کیے گئے مضبوط اور عالی شان محل اب کھنڈرات میں تبدیل ہوئے پڑے ہیں۔ سپین میں جا کر الحمرا کو دیکھو ! ‘ کبھی یہ محل مسلمان فرمانرواؤں کا مسکن تھا ‘ آج اس کی کیا کیفیت ہے ؟ قرطبہ کی عالی شان مسجد کو دیکھو ! جہاں اب نہ کوئی سجدہ کرنے والا ہے اور نہ وہاں کسی کو سجدہ کرنے کی اجازت ہے۔[ بئرٍ اور قَصْرٍ ، قَرْیۃٍ پر عطف ہیں۔ ]
Tafsir — Tazkirul Quran (Maulana Wahiduddin Khan)
This commentary covers ayaat 45 and 46.
خدا کے نزدیک دیکھنے والے وہ لو گ ہیں جو عبرت اور نصیحت کی نظر سے چیزوں کو دیکھیں۔ جن لوگوں کا حال یہ ہو کہ وہ واقعات کو دیکھیں مگر اس سے نصیحت نہ لے سکیں وہ خدا کی نظر میں اندھے ہیں۔ ان کا دیکھنا جانور کا دیکھنا ہے، نہ کہ انسان کا دیکھنا۔
خدا نے زمین پر نصیحت کے بے شمار سامان پھیلا دئے ہیں۔ انھیں میں سے ایک وہ قدیم یادگاریں ہیں جو پچھلی قوموں نے دنیا میں چھوڑی ہیں۔ یہ قومیں کبھی عظمت واقتدار کا مقام حاصل کيے ہوئے تھیں۔ مگر آج ان کا نشان ٹوٹے ہوئے کھنڈروں کے سوا اور کچھ نہیں۔
یہ واقعہ ہر انسان کو اس کا انجام یاد دلا رہا ہے مگر جب لوگ دل والی آنکھ کھودیں تو سر کی آنکھ انھیں کوئی بھی بامعنی چیز نہیں دکھاتی۔