Recitation (Mishary Rashid Alafasy)
Arabic
ٱلَّذِينَ إِن مَّكَّنَّـٰهُمۡ فِي ٱلۡأَرۡضِ أَقَامُواْ ٱلصَّلَوٰةَ وَءَاتَوُاْ ٱلزَّكَوٰةَ وَأَمَرُواْ بِٱلۡمَعۡرُوفِ وَنَهَوۡاْ عَنِ ٱلۡمُنكَرِۗ وَلِلَّهِ عَٰقِبَةُ ٱلۡأُمُورِ
Urdu (Syed Abul A’la Maududi)
یہ وہ لوگ ہیں جنہیں اگر ہم زمین میں اقتدار بخشیں تو وہ نماز قائم کریں گے، زکوٰۃ دیں گے، معروف کا حکم دیں گے اور منکر سے منع کریں گے اور تمام معاملات کا انجام کار اللہ کے ہاتھ میں ہے
English (Sahih International)
[And they are] those who, if We give them authority in the land, establish prayer and give zakah and enjoin what is right and forbid what is wrong. And to Allah belongs the outcome of [all] matters
Tafsir — Bayan ul Quran (Dr. Israr Ahmad)
This commentary covers ayaat 41 to 43.
آیت 41 اَلَّذِیْنَ اِنْ مَّکَّنّٰہُمْ فِی الْاَرْضِ ””تمکن“ کا ذکر اس سے پہلے حضرت یوسف علیہ السلام کے حوالے سے سورة یوسف علیہ السلام کی آیت 21 اور 56 میں بھی آچکا ہے : وَکَذٰلِکَ مَکَّنَّا لِیُوْسُفَ فِی الْاَرْضِز ”اور اسی طرح ہم نے یوسف علیہ السلام کو زمین میں تمکن عطا کیا“۔ تو اپنے ان مؤمن بندوں کو اگر ہم کسی خطۂ زمین کا اختیار و اقتدار عطا کریں گے تو ان کا لائحہ عمل کیا ہوگا ؟اَقَامُوا الصَّلٰوۃَ ”مؤمنین کو اگر کسی ملک پر حکومت کرنے کا اختیار ملے گا تو وہ اپنی پہلی ترجیح کے طور پر نماز کا نظام قائم کریں گے۔ چناچہ رسول اللہ ﷺ نے مدینہ پہنچتے ہی جمعہ کے قیام کا اہتمام فرمایا اور اقامت صلوٰۃ کے لیے ترجیحی بنیادوں پر مسجد نبوی کی تعمیر کی۔وَاٰتَوُا الزَّکٰوۃَ ”پھر زکوٰۃ کا باقاعدہ نظام قائم کیا جائے گا تاکہ معاشرے کے پس ماندہ طبقہ سے تعلق رکھنے والے افراد کی کفالت کا بندوبست ہو سکے۔وَلِلّٰہِ عَاقِبَۃُ الْاُمُوْرِ ”اگر یہ روایت صحیح ہے کہ یہ آیات سفر ہجرت کے دوران میں نازل ہوئی تھیں تو ان میں سے خصوصی طور پر یہ آیت حضور ﷺ کے مدینہ تشریف آوری کے فوراً بعد کی صورت حال کے لیے ایک منشور manifesto کا درجہ رکھتی ہے۔ چونکہ عنقریب مدینہ میں آپ ﷺ کا ورود ایک بےتاج بادشاہ کی حیثیت سے ہونے والا تھا اور مدینہ پہنچتے ہی آپ ﷺ کو اختیار و اقتدار ملنے والا تھا اس لیے اللہ تعالیٰ نے پیشگی بتادیا کہ اس صورت حال میں آپ ﷺ کی ترجیحات کیا ہوں گی۔ چناچہ جس طرح آج کل ہر سیاسی پارٹی الیکشن سے پہلے اپنا منشور جاری کرتی ہے کہ حکومت ملنے کی صورت میں ہماری ترجیحات کیا ہوں گی ‘ اسی طرح اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں اہل ایمان کو ہمیشہ کے لیے ایک منشور عطا کردیا ہے کہ کسی ملک میں اقتدار ملنے کی صورت میں انہیں کون کون سے امور ترجیحی بنیادوں پر انجام دینے ہوں گے۔یہ وہ خاص آیات 38 تا 41 ہیں جن کی وجہ سے بعض لوگ اس سورت کو مدنی سورت سمجھتے ہیں ‘ البتہ درست موقف یہی ہے کہ یہ آیات یا تو اثنائے سفر ہجرت میں نازل ہوئیں یا نبی اکرم ﷺ کے مدینہ پہنچنے کے فوراً بعد۔ لیکن انہیں مضامین حج کی مناسبت سے اس مکی سورت میں اس مقام پر رکھ دیا گیا۔ اس کے بعد اگلی آیت سے دوبارہ مکی انداز کے مضامین کا آغاز ہو رہا ہے۔
Tafsir — Tazkirul Quran (Maulana Wahiduddin Khan)
خدا کی مدد کا مستحق بننے کی شرط خاص یہ ہے کہ آدمی ایسا ہو کہ اس کو اقتدار ملے پھر بھی وہ نہ بگڑے۔ اس کو بڑائی کا مقام ملنا اس کے عجز وتواضع کو بڑھانے والا بن جائے۔ جو لوگ اقتدار سے پہلے کے حالات میں اس طرح صالح ثابت ہوں وہی اقتدار کے بعد کے حالات میں صالح ثابت ہوسکتے ہیں۔
یہی وہ لوگ ہیں کہ جب انھیں کوئی اقتدار دیا جاتا ہے تو وہ خدا کے آگے جھک جاتے ہیں۔ وہ بندوں کا پورا پورا حق ادا کرتے ہیں۔ وہ زندگی کے معاملات میں وہی کرتے ہیں جس کو خدا پسند کرتا ہے۔ اور اس سے دور رہتے ہیں جو خدا کو پسند نہیں۔