Recitation (Mishary Rashid Alafasy)

Next 22:39 Prev 22:37


Arabic

۞إِنَّ ٱللَّهَ يُدَٰفِعُ عَنِ ٱلَّذِينَ ءَامَنُوٓاْۗ إِنَّ ٱللَّهَ لَا يُحِبُّ كُلَّ خَوَّانٖ كَفُورٍ


Urdu (Syed Abul A’la Maududi)

یقیناً اللہ مدافعت کرتا ہے اُن لوگوں کی طرف سے جو ایمان لائے ہیں یقیناً اللہ کسی خائن کافر نعمت کو پسند نہیں کرتا


English (Sahih International)

Indeed, Allah defends those who have believed. Indeed, Allah does not like everyone treacherous and ungrateful


Tafsir — Bayan ul Quran (Dr. Israr Ahmad)

اب ہمیں جن آیات کا مطالعہ کرنا ہے ان میں وارد احکام حضور ﷺ کی دعوت و تحریک کی جدوجہد میں ایک نئے موڑ turning point کی حیثیت رکھتے ہیں۔ میرے خیال میں یہ وہی آیات ہیں جو ہجرت کے سفر کے دوران میں نازل ہوئی تھیں۔ قبل ازیں آیت 11 کے ضمن میں حضرت عبداللہ بن عباس رض کی روایت کا حوالہ گزر چکا ہے جس سے ثابت ہوتا ہے کہ اس سورت کی کچھ آیات اثنائے سفر ہجرت میں نازل ہوئی تھیں۔۔ ان آیات کا مضمون اور مقام و محل اس پہلو سے بھی قابل غور ہے کہ سورة البقرۃ کے 23 ویں رکوع میں یعنی تقریباً سورت کے وسط میں رمضان المبارک اور روزے کے احکام و فضائل کا ذکر ہے اور اس کے بعد دو رکوع 24 واں اور 25 واں رکوع قتال فی سبیل اللہ اور مناسک حج کے احکام پر مشتمل ہیں۔ بالکل اسی طرح یہاں بھی اس سورت کے تقریباً وسط میں دو رکوع مناسک حج پر مشتمل ہیں اور اس کے فوراً بعد اب قتال فی سبیل اللہ کا ذکر آ رہا ہے۔ اس سے اگرچہ سورة البقرۃ اور سورة الحج کی باہمی مشابہت بھی ظاہر ہوتی ہے لیکن ایک بہت اہم حقیقت یہ واضح ہوتی ہے کہ ان دونوں مضامین حج اور قتال فی سبیل اللہ میں بہت گہرا ربط ہے۔ اس ربط اور تعلق کی وجہ بظاہر یہ نظر آتی ہے کہ کعبۃ اللہ جو خدائے واحد کی عبادت کے لیے بنایا گیا تھا وہ ان آیات کے نزول کے وقت مشرکین کے زیر تسلط تھا اور توحید کے اس مرکز کو انہوں نے شرک کا اڈّا بنایا ہوا تھا۔ چناچہ اس وقت امت مسلمہ کا پہلا فرض منصبی یہ قرار پایا کہ وہ اللہ کے اس گھر کو مشرکین کے تسلط سے واگزار کرا کے اسے واقعتا توحید کا مرکز بنائے۔ لیکن یہ کام دعوت اور وعظ سے ہونے والا تو نہیں تھا ‘ اس کے لیے طاقت کا استعمال ناگزیر تھا۔ یہی وجہ ہے کہ ان دونوں مقامات پر حج بیت اللہ کے احکام کے ساتھ ساتھ قتال فی سبیل اللہ کا تذکرہ ہے۔آیت 38 اِنَّ اللّٰہَ یُدٰفِعُ عَنِ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا ط ”اس تحریک میں اب جو نیا دور شروع ہونے جا رہا ہے اس میں مسلح تصادم نا گزیر ہے۔ چناچہ آیت زیر نظر کا اصل پیغام یہ ہے کہ اس رزم گاہ میں اہل ایمان خود کو تنہا نہ سمجھیں۔ ان کی مدد اور نصرت کے لیے اور ان کے دشمنوں کو بیخ و بنُ سے اکھاڑ پھینکنے کے لیے اللہ ان کی پشت پر موجود ہے۔اِنَّ اللّٰہَ لَا یُحِبُّ کُلَّ خَوَّانٍ کَفُوْرٍ ”یہ یقیناً مشرکین مکہ کا تذکرہ ہے ‘ جو ایک طرف خیانت کی انتہائی حدود کو پھلانگ گئے تو دوسری طرف ناشکری میں بھی ننگ انسانیت ٹھہرے۔ یہ لوگ حضرت ابراہیم اور حضرت اسماعیل علیہ السلام کی وراثت کے امین تھے۔ بیت اللہ گویا ان لوگوں کے پاس ان بزرگوں کی امانت تھی۔ یہ گھر تو تعمیر ہی اللہ کی عبادت کے لیے ہوا تھا۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اس کی گواہی ان الفاظ میں دی تھی : رَبَّنَا لِیُقِیْمُوا الصَّلٰوۃَ ابراہیم : 37 کہ پروردگار ! میں اپنی اولاد کو اس گھر کے پہلو میں اس لیے بسانے جا رہا ہوں کہ یہ لوگ تیری عبادت کریں۔ پھر آپ علیہ السلام نے اپنے اور اپنی اولاد کے لیے یہ دعا بھی کی تھی : وَاجْنُبْنِیْ وَبَنِیَّ اَنْ نَّعْبُدَ الْاَصْنَامَ ابراہیم کہ پروردگار ! مجھے اور میری اولاد کو بت پرستی کی لعنت سے بچائے رکھنا۔ چناچہ مشرکین مکہّ نے اللہ کے اس گھر اور توحید کے اس مرکز کو شرک سے آلودہ کر کے اللہ تعالیٰ ہی کی نافرمانی نہیں کی تھی بلکہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی متبرک امانت میں خیانت کا ارتکاب بھی کیا تھا۔دوسری طرف یہ لوگ اپنے کرتوتوں سے اللہ کی نا شکری کے مرتکب بھی ہوئے۔ وہ خوب جانتے تھے کہ پورے جزیرہ نمائے عرب میں مکہ کو جو مرکزی حیثیت حاصل ہے وہ بیت اللہ کی وجہ سے ہے۔ وہ اس حقیقت سے بھی اچھی طرح واقف تھے کہ مشرق و مغرب کے درمیان تجارتی میدان میں ان کی اجارہ داری خانہ کعبہ ہی کے طفیل قائم ہے۔ انہیں یہ بھی معلوم تھا کہ شام موسم گرما اور یمن موسم سرما کے درمیان ان کے قافلے قبائلی حملوں اور روایتی لوٹ مار سے محفوظ رہتے تھے تو صرف اس لیے کہ وہ بیت اللہ کے متولی تھے۔ یہی وہ حقائق تھے جن کی طرف ان کی توجہ سورة القریش میں دلائی گئی ہے : لِاِیْلٰفِ قُرَیْشٍ۔ اٖلٰفِہِمْ رِحْلَۃَ الشِّتَآءِ وَالصَّیْفِ فَلْیَعْبُدُوْا رَبَّ ہٰذَا الْبَیْتِ۔ الَّذِیْٓ اَطْعَمَہُمْ مِّنْ جُوْعٍلا وَّاٰمَنَہُمْ مِّنْ خَوْفٍ ”قریش کو مانوس کرنے کے لیے ! انہیں سردیوں اور گرمیوں کے سفر سے مانوس کرنے کے لیے ! پس انہیں چاہیے کہ وہ اس سب کچھ کے شکر میں اس گھر کے رب کی بندگی کریں ‘ جس نے انہیں بھوک میں کھانا کھلایا ‘ اور خوف میں امن بخشا۔“مگر اس سب کچھ کے باوجود انہوں نے نا شکری کی انتہا کردی۔ انہوں نے اللہ کی بندگی کے بجائے بت پرستی اختیار کی اور بیت اللہ کو توحید کا مرکز بنانے کے بجائے اسے ُ بت خانے میں تبدیل کردیا۔ اس پس منظر کو ذہن نشین کر کے آیت زیر نظر کا مطالعہ کیا جائے تو سیاق وسباق بالکل واضح ہوجاتا ہے کہ وہ خائن اور ناشکرے لوگ کون ہیں جنہیں اللہ پسند نہیں کرتا۔


Tafsir — Tazkirul Quran (Maulana Wahiduddin Khan)

This commentary covers ayaat 38 to 40.

اللہ کا کوئی بندہ یا کوئی گروہ اپنے آپ کو اللہ کے راستے پر ڈالے تو وہ اس دنیا میں تنہا نہیں ہوتا۔ غافل اور سرکش لوگ جب اس کو اپنے ظلم کا نشانہ بنائیں تو خدا ظالموں کے مقابلہ میں ان کی جانب کھڑاہوجاتا ہے۔ خدا ابتداء ً اپنا نام لینے والوں کے اخلاص کا امتحان لیتاہے۔ مگر جو لوگ امتحان میں پڑ کر اپنا مخلص ہونا ثابت کردیں خدا ضرور ان کی مدد پر آجاتاہے۔ اور ان کے ليے ایسے حالات پیدا کرتا ہے کہ وہ تمام رکاوٹوں پر قابو پاتے ہوئے حق پر کار بند رہ سکیں۔

اہل ایمان کا اصل اقدام صرف دعوت ہے۔ وہ دعوت سے آغاز کرتے ہیں اور برابر دعوت ہی پر قائم رہتے ہیں۔ وہ بوقت ضرورت کبھی جنگ بھی کرتے ہیں مگر ان کی جنگ ہمیشہ دفاع کے ليے ہوتی ہے، نہ کہ جارحیت کے ليے۔

ایک گروہ اگر زیادہ مدت تک اقتدار پر رہے تو اس کے اندر سرکشی اور گھمنڈ پیدا ہوجاتا ہے۔ اس ليے خدا نے اس دنیا میں ’’دفع‘‘ کا قانون مقرر کیا ہے۔ وہ بار بار ایک گروہ کے ذریعے دوسرے گروہ کواقتدار کے مقام سے ہٹاتا ہے۔ اس طرح تاریخ میں سیاسی توازن قائم رہتا ہے۔ اگر خدا ایسا نہ کرے تو لوگوں کی سرکشی یہاں تک بڑھ جائے کہ عبادت خانے جیسے مقدس ادارے بھی ان کی دست بُرد سے محفوظ نہ رہیں۔

اس دفع کی ایک صورت یہ ہے کہ کسی گروہ کے اقتدار کو سرے سے ختم کردیا جائے۔ اس کی ایک مثال موجودہ زمانہ میں برطانیہ عظمیٰ کی ہے جس کو وطنی آزادی کی تحریکوں کے ذریعے ختم کیا گیا۔ دوسرا طریقہ وہ ہے جس کی مثال روس اور امریکا کی شکل میں نظر آتا ہے۔ یعنی ایک کے ذریعے دوسرے پر روک لگانا۔ اور اس طرح بین اقوامی سیاست میں توازن قائم رکھنا۔


Connections

  • Previous: 22_37
  • Next: 22_39
  • Thematic: (add links here)

Tafsir Notes