Recitation (Mishary Rashid Alafasy)
Arabic
إِنَّ ٱللَّهَ يُدۡخِلُ ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ وَعَمِلُواْ ٱلصَّـٰلِحَٰتِ جَنَّـٰتٖ تَجۡرِي مِن تَحۡتِهَا ٱلۡأَنۡهَٰرُ يُحَلَّوۡنَ فِيهَا مِنۡ أَسَاوِرَ مِن ذَهَبٖ وَلُؤۡلُؤٗاۖ وَلِبَاسُهُمۡ فِيهَا حَرِيرٞ
Urdu (Syed Abul A’la Maududi)
(دوسری طرف) جو لوگ ایمان لائے اور جنہوں نے نیک عمل کیے اُن کو اللہ ایسی جنتوں میں داخل کرے گا جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہوں گی وہاں وہ سونے کے کنگنوں اور موتیوں سے آراستہ کیے جائیں گے اور ان کے لباس ریشم کے ہوں گے
English (Sahih International)
Indeed, Allah will admit those who believe and do righteous deeds to gardens beneath which rivers flow. They will be adorned therein with bracelets of gold and pearl, and their garments therein will be silk
Tafsir — Bayan ul Quran (Dr. Israr Ahmad)
یُحَلَّوْنَ فِیْہَا مِنْ اَسَاوِرَ مِنْ ذَہَبٍ وَّلُؤْلُؤًاط وَلِبَاسُہُمْ فِیْہَا حَرِیْرٌ ”دنیا میں ریشم پہننا مردوں کے لیے حرام ہے مگر جنتیوں کے لباس خصوصی طور پر ریشم سے تیار کیے جائیں گے۔ اوپر والا لباس باریک ریشم کا ہوگا جبکہ اس کے نیچے گاڑھے ریشم کا۔
Tafsir — Tazkirul Quran (Maulana Wahiduddin Khan)
This commentary covers ayaat 23 and 24.
جس دنیا میں ہر طرف پرفریب الفاظ کا جال بچھا ہوا ہو۔ جہاں حق سے پھرے ہوئے لوگ غلبہ حاصل کيے ہوئے ہوں۔ ایسے ماحول میں ایمان کی صداقت کو پهچاننا بلا شبہ سخت مشکل کام ہے۔ اور اس سے بھی زیادہ مشکل کام یہ ہے کہ ایمان کے اس راستہ پر عملاً اپنے آپ کو ڈال دیا جائے۔
یہ وہ لوگ ہیں جن کو اقوال کے پرشور ہنگاموں میں قولِ طیب کو پانے کی توفیق ملی۔ جنھوں نے راستوں کے ہجوم میں صراط حمید کو دیکھا اور اس کو پہچان لیا۔ جو لوگ دنیا میں اس عظیم لیاقت کا ثبوت دیں وہ انسانیت کے سب سے زیادہ قیمتی لوگ ہیں۔ وہ اس قابل ہیں کہ انھیں جنت کے ابدی باغوں میں بسایا جائے۔