Recitation (Mishary Rashid Alafasy)

Next 21:96 Prev 21:94


Arabic

وَحَرَٰمٌ عَلَىٰ قَرۡيَةٍ أَهۡلَكۡنَٰهَآ أَنَّهُمۡ لَا يَرۡجِعُونَ


Urdu (Syed Abul A’la Maududi)

اور ممکن نہیں ہے کہ جس بستی کو ہم نے ہلاک کر دیا ہو وہ پھر پلٹ سکے


English (Sahih International)

And there is prohibition upon [the people of] a city which We have destroyed that they will [ever] return


Tafsir — Bayan ul Quran (Dr. Israr Ahmad)

آیت 95 وَحَرٰمٌ عَلٰی قَرْیَۃٍ اَہْلَکْنٰہَآ اَنَّہُمْ لَا یَرْجِعُوْنَ ”اس آیت کا ایک مفہوم تو یہ ہے کہ جن بستیوں پر اللہ کے عذاب کا فیصلہ ہوجاتا تھا ‘ وہاں کے لوگ نبی یا رسول کے آنے کے بعد بھی کفر و شرک سے لوٹنے والے نہیں ہوتے تھے۔ اللہ تعالیٰ ان پر اتمام حجت کے لیے رسول تو بھیج دیتا تھا ‘ لیکن اس کو خوب معلوم تھا کہ کفرو شرک سے ان لوگوں کے رجوع کرنے اور ایمان لانے کا کوئی امکان نہیں۔ اس کا دوسرا مفہوم یہ بھی ہے کہ اللہ کے عذاب سے جو بستی ایک دفعہ برباد ہوگئی پھر اس کے دوبارہ آباد ہونے کا کوئی امکان نہیں۔


Tafsir — Tazkirul Quran (Maulana Wahiduddin Khan)

This commentary covers ayaat 95 to 97.

کسی بستی کے لیے ایمان میں داخلہ حرام ہونے کا مطلب یہ ہے کہ اس کے قبولِ ایمان کی استعداد ختم ہوجائے۔ جب حق واضح دلائل کے ساتھ سامنے آتا ہے تو آدمی اپنی عین فطرت کے تحت مجبور ہوتا ہے کہ وہ اس کو پہچانے۔ اب جو لوگ اس پہچان کے بعد حق کا اعتراف کرلیں وہ اپنی فطرت کو باقی رکھتے ہیں۔ اس کے برعکس، جو لوگ دوسری چیزوں کو اہمیت دینے کی بنا پر اس کا اعتراف نہ کریں وہ گویا اپنی فطرت پر پردہ ڈال رہے ہیں۔ حق کا انکار ہمیشہ اپني فطرت کو اندھا بنانے کی قیمت پر ہوتا ہے۔ جو لوگ اپنی فطرت کو اندھا بنانے کا خطرہ مول لیں ان کا انجام یہی ہے کہ ان کے لیے ایمان میں داخل ہونا بالکل ناممکن ہوجائے۔

جو لوگ دلائل کی زبان میں حق کو نہ پہچانیں وہ حق کو صرف اس وقت پہچانیں گے جب کہ قیامت ان کی آنکھ کا پردہ پھاڑ دے گی۔ مگر اس وقت کا پہچاننا کسی کے کچھ کام نہ آئے گا۔ کیوں کہ وہ ماننے کا انجام پانے کا وقت ہوگا، نہ کہ ماننے کا۔


Connections

  • Previous: 21_94
  • Next: 21_96
  • Thematic: (add links here)

Tafsir Notes