Recitation (Mishary Rashid Alafasy)
Arabic
إِنَّ هَٰذِهِۦٓ أُمَّتُكُمۡ أُمَّةٗ وَٰحِدَةٗ وَأَنَا۠ رَبُّكُمۡ فَٱعۡبُدُونِ
Urdu (Syed Abul A’la Maududi)
یہ تمہاری امّت حقیقت میں ایک ہی امّت ہے اور میں تمہارا رب ہوں، پس تم میری عبادت کرو
English (Sahih International)
Indeed this, your religion, is one religion, and I am your Lord, so worship Me
Tafsir — Bayan ul Quran (Dr. Israr Ahmad)
آیت 92 اِنَّ ہٰذِہٖٓ اُمَّتُکُمْ اُمَّۃً وَّاحِدَۃًز ”اُمت ابراہیم ‘ علیہ السلام امت اسماعیل ‘ علیہ السلام امت موسیٰ علیہ السلام ‘ امت عیسیٰ علیہ السلام ٰ ‘ امت محمد ﷺ اور دوسرے تمام انبیاء کی امتیں بنیادی طور پر ایک ہی دین کی پیروکار تھیں اور یوں تمام انبیاء اور ان کے پیروکار گویا ایک ہی امت کے افراد تھے۔ اس مضمون کو سورة البقرۃ ‘ آیت 213 میں اس طرح بیان فرمایا گیا ہے : کَان النَّاسُ اُمَّۃً وَّاحِدَۃً قف یعنی شروع میں تمام انسان ایک ہی امت تھے اور ایک ہی دین کے ماننے والے تھے۔ پھر لوگوں نے اپنی اپنی سوچ اور اپنے اپنے مفادات کے مطابق صراط مستقیم میں سے پگڈنڈیاں نکال لیں ‘ مختلف گروہوں نے نئے نئے راستے بنا لیے اور ان غلط راستوں پر وہ اتنی دور چلے گئے کہ اصل دین مسخ ہو کر رہ گیا اور اب ان مختلف گروہوں کے نظریات کی یہ مغائرت اس حد تک بڑھ چکی ہے ع ”کہ پہچانی ہوئی صورت بھی پہچانی نہیں جاتی !“یعنی آج بہت سے مذاہب کی اصلی شکل کو پہچاننا بھی ممکن نہیں رہا۔ ان کے بگڑے ہوئے عقائد کو دیکھ کریقین نہیں آتا کہ کبھی ان کا تعلق بھی دین حق سے تھا۔ بہر حال حقیقت یہی ہے کہ تمام انبیا ورسل علیہ السلام کا تعلق ایک ہی امت سے تھا۔ وہ سب ایک ہی اللہ کو ماننے والے تھے اور سب ایک ہی دین لے کر آئے تھے ‘ البتہ مختلف انبیاء کی شریعتوں کے تفصیلی احکامات میں باہم فرق پایا جاتا رہا ہے۔ یہ مضمون مزید وضاحت کے تحت سورة الشوریٰ میں آئے گا۔
Tafsir — Tazkirul Quran (Maulana Wahiduddin Khan)
This commentary covers ayaat 92 to 94.
خدا نے تمام نبیوں کو ایک ہی دین دے کربھیجا ہے۔ وہ یہ کہ صرف ایک خدا کو اپنا خدا بناؤ اور اور اسی کی عبادت کرو۔ اگر لوگ اسی اصل دین پر قائم رہتے تو سب ایک ہی امت بنے رہتے۔ مگر لوگوں نے اپنی طرف سے نئی نئی بحثیں نکال کر دین کے مختلف ایڈیشن تیار کرلئے۔ کسی نے ایک کو لیا اور کسی نے دوسرے کو۔ اس طرح ایک دین کئی دینوں میں تقسیم ہوکر رہ گیا۔
خدا کے یہاں ایمان وعمل کی قیمت ہے، یعنی خدا کی سچی معرفت اور خدا کی سچی تابع داری۔ اس کے سوا جو چیزیں ہیں ان کی خداکے یہاں کوئی قدردانی نہ ہوگی، خواہ کوئی شخص بطور خود ان کو کتنا ہی زیادہ قابل قدر کیوں نہ سمجھتا ہو۔